Urdu book · مطالعۂ حدیث

خواتین

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول کی سنت عن عائشة ، قالت : ما خير رسول الله ﷺ بین امرين قط الا اخذ ايسر هما ما لم يكن اثما، فان كان ان اثما كان ابعد الناس منه (متفق عليه) حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کو اختیار کرتے جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو۔ پس اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے تھے۔ اس حدیث میں ”ایسر“ کا لفظ سادہ طور پر محض سہل کے معنی میں نہیں ہے۔ آپ کے حالات بتاتے ہیں کہ آپ سہولت پسندی سے بہت دور تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی قربانی اور جفا کشی کی اعلیٰ سطح پر گزاری۔ ایسی حالت میں اس حدیث کو سہولت پسندی کے معنی میں کیسے لیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ”ایسر“ کا لفظ زیادہ قابل عمل کے معنی میں ہے۔ حضرت عائشہ کی یہ روایت بتاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ممکن دائرہ میں کوشش کرنے کا تھا نہ کہ غیر ممکن دائرہ میں غیر ضروری طور پر اپنے وقت اور اپنی قوت کو ضائع کرنے کا۔ زندگی میں ہمیشہ دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ہے ممکن سے آغاز، اور دوسرا ہے ناممکن سے آغاز۔ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ناممکن کو چھوڑ کر ممکن میں اپنی قوت صرف فرماتے تھے۔ مکہ کے ابتدائی سالوں میں ایک طریقہ کھلم کھلا تبلیغ کا تھا اور دوسرا خفیہ تبلیغ کا۔ آپ نے تین سال تک کھلم کھلا تبلیغ کو چھوڑ کر خفیہ تبلیغ کا طریقہ اختیار فرمایا۔ مکہ میں جب لوگوں نے مخالفت اور ایذا رسانی شروع کی تو ایک طریقہ جوابی کارروائی کا تھا اور دوسرا اعراض کا۔ آپ نے جوابی کارروائی کا طریقہ چھوڑ کر اعراض کا طریقہ اختیار فرمایا۔ مکی دور کے آخر میں لوگ آپ کے قتل کے در پے ہو گئے۔ اب ایک طریقہ ان سے لڑنے کا تھا اور دوسرا طریقہ یہ تھا کہ مکہ کو چھوڑ دیا جائے۔ آپ نے لڑائی کو چھوڑ کر مکہ سے چلے جانے کا طریقہ اختیار فرمایا۔ ہجرت کے بعد آپ کے سامنے ایک طریقہ جنگ کو جاری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page