Urdu book · مطالعۂ حدیث

اتحاد

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

اتحاد ایمان کا حصہ ہے ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابرو، و کونوا عباد اللہ اخوانا، ولا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال (رواہ ابو داؤد) یعنی آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ کرو۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو۔ سب اللہ کے بندے، بھائی بھائی بن جاؤ۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے۔ یہ حدیث بظاہر حکم کی زبان میں ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ یہ بتا رہی ہے کہ ایمان آدمی کے اندر کس قسم کی صفات پیدا کرتا ہے۔ خدا کی معرفت انسان کو کس قسم کے کردار والا انسان بناتی ہے۔ اس حدیث میں دراصل کسی ایمان والے آدمی کی ان صفات کو بتایا گیا ہے جن کو اجتماعی صفات کہا جاتا ہے۔ گویا کہ یہ چیزیں ایمان کی اجتماعی پہچان ہیں۔ ذاتی دائرہ میں ایمان اللہ سے تعلق کا نام ہے۔ لیکن جب ایمان والے لوگ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہیں تو اس وقت باہمی اختلاط کے نتیجہ میں بار بار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جب معاملہ صرف خدا اور انسان کا ہو تو وہاں کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوگا، مگر جب انسان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہے ہیں، تو ایسی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف مسائل کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ اس طرح اجتماعی زندگی ایک پہچان بن جاتی ہے۔ جو یہ بتائے کہ لوگوں کے اندر ایمان کی سچی اسپرٹ موجود ہے یا نہیں۔ اللہ کے وہ بندے جو اللہ کو حقیقی معنوں میں اپنا معبود بنالیں، ان کا دل ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کا دل خدا کی بلندیوں میں اٹکا ہوا ہو، وہ دنیا کی پستیوں میں لت پت ہو کر نہیں رہ سکتے۔ ایسے لوگ اپنے بھائیوں کے درمیان اس طرح رہنے لگتے ہیں جیسے ہوا لوگوں کے درمیان سے گزرتی ہے، مگر وہ کسی سے نہیں ٹکراتی۔ جیسے پھول کی مہک ہر ایک کو پہنچتی ہے مگر وہ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page