Urdu book · مطالعۂ حدیث

ایمان

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث صحیح مسلم کا آغاز کتاب الایمان سے ہوتا ہے۔ اس کے ایک باب کا عنوان یہ ہے کہ جو شخص قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارے اس کے لئے جہنم کی وعید ہے (باب وعید من اقتطع حق مسلم بیمین فاجرة بالنار) : عن ابي امانة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من اقتطع حق امرئ مسلم بيمينه فقد اوجب الله له النار وحرم عليه الجنة، فقال له رجل وان كان شيئا يسيرا يا رسول الله، قال : وإن كان قضيباً من اراك (الجامع لأحكام القرآن ۱۲۰/۴) ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان آدمی کا مال قسم کھا کر مارلے تو اللہ اس کے لیے آگ کو واجب کر دیتا ہے۔ اور اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اگر چہ وہ کوئی معمولی چیز ہو۔ آپ نے فرمایا کہ اگر چہ وہ پیلو کی ایک ٹہنی کیوں نہ ہو۔ دوسرے کی چیز ہڑپ کرنے کے بعد قسم کھانا دراصل اپنے آپ کو جائز ثابت کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ آدمی کبھی قسم کے ذریعہ سے اپنی تبریر کرتا ہے اور کبھی دوسرے ذریعہ سے۔ آدمی جھوٹے الفاظ بول کر انسانوں کے سامنے اپنی سرخروئی باقی رکھنا چاہتا ہے، اس لیے وہ قسم جیسی تدبیریں اختیار کرتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ آدمی اپنے آپ کو اہل دنیا کے سامنے پاکباز ثابت کرنے میں کامیاب ہو چکا ہوتا ہے، اللہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ اس کو جہنمی انسانوں کی فہرست میں لکھ لو۔ ناحق کسی کی چیز لینا برا ہے۔ مگر یہ اور بھی زیادہ برا ہے کہ آدمی جھوٹے الفاظ بول کر اپنی اس برائی کو بھلائی ثابت کرے۔ ایسا کرنا خدا پر جسارت ہے۔ یہ جرم پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ ایسا آدمی اپنے بارہ میں ثابت کر رہا ہے کہ وہ اخلاقی کمزوری کے ساتھ بے حسی اور ہٹ دھرمی اور خدا سے کامل بے خوفی جیسے شدید تر امراض میں مبتلا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page