Urdu book · مطالعۂ حدیث

صد احادیث

Urdu book, p. 286

By Maulana Wahiduddin Khan

چپ رہنے کے بہت سے فائدے ہیں۔ جب آدمی چپ رہتا ہے تو وہ سوچتا ہے۔ جب آدمی چپ رہتا ہے تو وہ دوسروں سے سیکھتا ہے۔ جب آدمی چپ رہتا ہے تو وہ اپنی اندرونی طاقتوں کو جگاتا ہے۔ یہ بلاشبہ ضروری ہے کہ آدمی بولے۔ مگر اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ وہ چپ رہنے کی حکمت کو جانے۔ کبھی بات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ آدمی چپ ہو جائے۔ چپ رہنا نظر انداز کرنے کی ایک علامت ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ نظر انداز کرنا ایک انتہائی حکیمانہ عمل ہے۔ 028 — دو مختلف صفات قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے اندر دو مختلف صفات رکھی گئی ہیں۔ ایک نفس امارہ دوسرے نفس لوامہ۔ یہ دونوں صفتیں پیدائشی طور پر ہر انسان کے اندر ہوتی ہیں۔ کوئی بھی انسان ان سے خالی نہیں ہے۔ نفس امارہ سے مراد انانیت ہے اور نفس لوامہ سے مراد ضمیر ہے۔ یہ دونوں صفتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی حالت میں ہوتی ہیں۔ اگر ان کو نہ جگایا جائے تو وہ سوئی ہوئی رہیں گی۔ اگر کسی آدمی کے خلاف ایسی بات کہی جائے جو اس کو اشتعال دلانے والی ہو تو اس کا نفس امارہ جاگ پڑے گا اور پھر اس کا انجام وہی ہو گا جیسے کسی سوئے ہوئے سانپ کو جگا دیا جائے۔ اس کے برعکس اگر آدمی سے نرمی کا سلوک کیا جائے تو اس کا نفس لوامہ جاگے گا۔ پہلے اگر دوسروں کو اس سے کانٹے کا تجربہ ہوا تھا تو اب دوسروں کو اس سے پھول کا تجربہ ہوگا۔ اب دوسروں کو اس سے انسانیت کی خوشبو حاصل ہوگی۔ اب وہ دوسروں کے لیے رحمت کا نمونہ بن جائے گا۔ 029 — صبر سے کامیابی پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جان لو، کامیابی صبر کے ساتھ ہے۔ صبر کا الٹا عجلت پسندی ہے۔ عجلت کی کارروائی منصوبہ کے بغیر ہوتی ہے اور صبر کی کارروائی منصوبہ کے بعد ہوتی ہے۔ اور اس دنیا میں وہی کارروائی کامیاب ہوتی ہے جو منصوبہ کے ساتھ کی گئی ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page