Urdu book · مطالعۂ حدیث

صد احادیث

Urdu book, p. 290

By Maulana Wahiduddin Khan

036 — برائی کو مٹانا قرآن میں بتایا گیا ہے کہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم سے کوئی برائی ہو جائے تو اس کے بعد تم نیکی کرو۔ اس سے برائی کا اثر ختم ہو جائے گا۔ مثلاً اگر آپ نے کسی شخص کو برا کہہ دیا تو اس کے بعد اس کو اچھا کہیے۔ اگر آپ نے کسی کو نقصان پہنچایا ہے تو اس کے بعد اس کو فائدہ پہنچائیے۔ اگر آپ نے کسی کے دل کو دکھایا ہے تو اس سے معافی مانگ لیجئے ۔ اگر آپ نے کسی کے خلاف اکثر دکھائی ہے تو اب اس کے سامنے جھک جائیے۔ اگر آپ نے کسی کے ساتھ بداخلاقی کا معاملہ کیا ہے تو اس کے بعد اس کے ساتھ خوش اخلاقی کا معاملہ کیجئے۔ اگر آپ نے کسی کو حقیر سمجھ لیا ہے تو اس کے بعد اس کو عزت کا مقام دیجئے۔ اس طرح اپنے آپ برائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ 037 — گناہ کیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور اس کو کرتے ہوئے تم ڈرو کہ لوگ اس سے باخبر نہ ہو جائیں۔ یہ گناہ کی ایک ایسی پہچان ہے جس کو ہر آدمی نہایت آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ ہر آدمی کے اندر ضمیر ہے۔ یہ ضمیر اتنا حساس ہے کہ وہ برائی کے وقت آدمی کو فوراً ٹوک دیتا ہے۔ اگر آدمی ضمیر کی آواز کو سنے تو کبھی وہ گناہ نہ کرے۔ اسی طرح جب کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اس کو چھپا کر کرتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی اسے جاننے نہ پائے۔ جب بھی آدمی کے اندر اس قسم کا جذ بہ پیدا ہو تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ایک ایسا کام کرنے جا رہا ہے جو اس کو نہیں کرنا چاہئے۔ 038 — پڑوسی کا حق پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کا پڑوسی اس کی برائیوں سے امن میں نہ ہو۔ آدمی خواہ کہیں بھی ہو ہر وقت وہ کسی کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ ساتھی لوگ اس کے پڑوسی ہیں۔ ان پڑوسیوں کا یہ حق ہے کہ آپ سے انہیں کسی برائی کا تجر بہ نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں اس تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہر انسان کو نو پرابلم انسان بن کر رہنا چاہئے۔ اس کو سخت احتیاط کرنا چاہئے کہ اس کی ذات سے اس کے آس پاس کے لوگوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ تکلیف کا معیار یہ ہے کہ دوسروں کو شکایت کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page