Urdu book · مطالعۂ حدیث

صد احادیث

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

کرے بلکہ یہ ہے کہ وہ غلطی پر اصرار نہ کرے ۔ غلطی کرنے کے بعد فوراً اس کا ضمیر جاگ اٹھے۔ اپنی غلطی پر اس کے اندر شدید ندامت پیدا ہو جائے ۔ غلطی کرنا اس کے لیے احتساب کے جذبہ کو جگانے کا ذریعہ بن جائے۔ 046 - ضمیر کی آواز پیغمبر اسلام سے آپ کے ایک ساتھی نے نیکی اور بدی کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے جواب دیا کہ تم اپنے دل سے فتویٰ لے لو، یعنی اپنے دل سے پوچھ کر جان لو۔ نیکی وہ ہے جس پر تمھارا دل مطمئن ہو اور بدی وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹک پیدا کرے۔ انسان کے اندر پیدائشی طور پر ایک صفت ہوتی ہے۔ یہ اس کا ضمیر ہے۔ ضمیر گویا سچائی کی عدالت ہے۔ ضمیر فوراً بتا دیتا ہے کہ کیا چیز حق ہے اور کیا چیز ناحق ۔ کون سا رویہ درست ہے اور کون سا رویہ نادرست۔ آدمی اگر صرف یہ کرے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کو سنے تو وہ اس کی رہنمائی کے لیے کافی ہو جائے گا۔ ضمیر ہمیشہ اپنا کام کرتا ہے۔ وہ ہر موقع پر بتا تار ہتا ہے کہ کیا ٹھیک ہے اور کیا ٹھیک نہیں۔ اگر آدمی غفلت نہ برتے تو اس کا ضمیر ہی اس کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنے کے لیے کافی ہو جائے گا۔ 047 - امانت ادا کرو قرآن میں جو احکام آئے ہیں ان میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اے لوگو، امانت داروں کو ان کی امانت ادا کرو، یہ قرآنی حکم ایک جامع حکم ہے اور اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ امانت کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی کا مال آپ کے پاس بطور امانت ہو تو اس کو اس کے مالک تک ٹھیک ٹھیک پہنچانا فرض ہے۔ اسی طرح کسی تعلیم گاہ کا ایک معلم بھی امین ہے اور طلبہ اس کی امانت میں ہیں۔ معلم کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور جو انسانی نسلیں اس کی امانت میں دی گئی ہیں ان کے حقوق ادا کرنے میں وہ کوئی کمی نہ کرے۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی ملک کا حاکم بنے تو وہ ملک اس کی امانت میں آ گیا اور وہ اس کا امین بن گیا۔ ایسی حالت میں حاکم پر فرض ہے کہ وہ ان امیدوں کو پورا کرے جن کے تحت اس کو یہ امانت دی گئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page