صد احادیث
Urdu book, p. 297
By Maulana Wahiduddin Khan
052 ـــــ زیادہ بڑی طاقت پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ خدا نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ ان الفاظ میں قدرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں نرمی اور عدم تشدد سے کام بنے اور سختی اور تشدد سے کام بگڑ جائے۔ نرمی اور عدم تشدد سے مفید نتیجہ نکلے اور سختی اور تشدد کا طریقہ بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔ سختی اور تشدد کا طریقہ دل کی بھڑ اس نکالنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے مگر وہ کسی تعمیری مقصد کے حصول کے لیے مفید نہیں۔ تعمیر و ترقی کا کام ایک ایسا طریقہ کار چاہتا ہے جو شروع کرنے کے بعد مسلسل جاری رہے۔ پائدار عمل کی یہ صفت صرف غیر متشددانہ طریقہ کار میں پائی جاتی ہے۔ 053 ـــــ صلح بہتر ہے قرآن کی ایک آیت میں لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ـــــ صلح بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی نزاعی معاملہ پیش آئے تو اس وقت بہتر یہ ہے کہ لوگ ٹکراؤ کے طریقہ کو اختیار نہ کریں بلکہ مفاہمت کے طریقہ کو اختیار کریں۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی نزاع پیش آجاتی ہے۔ ایسی حالت میں لوگوں کے لیے دو ممکن طریقہ ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ ٹکراؤ اور تشدد کے ذریعہ اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے اور دوسرا یہ کہ پر امن گفت و شنید کے ذریعہ آپس میں مصالحت کر لی جائے اور نزاع کو ابتدائی مرحلہ ہی میں ختم کر دیا جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مصالحت کا طریقہ ہی دونوں فریقوں کے لیے مفید ہے۔ ٹکراؤ کا طریقہ ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ اس میں آپس کی نفرت بڑھتی ہے۔ اور جہاں تک اصل مسئلہ کا تعلق ہے وہ بھی حل نہیں ہوتا۔ اگر لوگ معاملہ کو نتیجہ کے پہلو سے دیکھیں تو وہ کبھی ٹکراؤ کا راستہ اختیار نہ کریں ، کیوں کہ ٹکراؤ کا راستہ آدمی کو تباہی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچاتا۔ 054 ـــــ سماجی خدمت قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا کے جو سچے بندے ہیں ان کے مال میں سائل اور محروم کا حق ہوتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader