Urdu book · مطالعۂ حدیث

صد احادیث

Urdu book, p. 301

By Maulana Wahiduddin Khan

جان مال اور آبرو کو نقصان نہ پہنچائے۔ جیسے ہی کوئی آدمی ان تین چیزوں میں دوسروں کے لیے خطرہ بنے، اس کی آزادی ختم ہو جائے گی۔ وہ آزادی کے فطری حق سے محروم قرار دے دیا جائے گا۔ 061 ــ ہر شخص ذمہ دار ہے پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ سن لو، تم میں سے ہر شخص ایک چرواہا ہے۔ اور تم میں سے ہر شخص سے اس کے گلہ کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس حدیث میں چرواہا اور گلے کی مثال سے زندگی کی ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ جس طرح چرواہا کا گلہ ہوتا ہے اسی طرح ہر انسان کا اپنے حالات کے اعتبار سے ایک گلہ ہے۔ اور اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے اس گلہ کی چرواہی میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرے۔ مثلاً ایک گھر کا جو بڑا شخص ہے اس کا گلہ اس کا خاندان ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے خاندان کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے۔ اسی طرح ایک اسکول یا کالج کا ایک ٹیچر اپنے طلبہ کا ذمہ دار ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ طلبہ کے حق میں اپنی تعلیمی ذمہ داری کو بھر پور طور پر ادا کرے ۔ اسی طرح ایک لیڈر اپنے پیروؤں کا ذمہ دار ہے۔ اس کا فرض ہے کہ جو لوگ اس کے ساتھ دے رہے ہیں وہ پوری طرح ان کا خیر خواہ بنے۔ اسی طرح کسی ادارے کا صدر اپنے ادارے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ذمہ دار ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ ان متعلقین ادارہ کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔ 062 ــ ہر ایک کی مدد پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ تم اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ لوگوں نے پوچھا کہ مظلوم کی مدد کرنا تو ہم جانتے ہیں مگر ہم ظالم کی مدد کیسے کریں۔ آپ نے فرمایا کہ تم ظالم کو اس کے ظلم سے روکو۔ اسلام ہر انسان کے اندر یہ اسپرٹ پیدا کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کا خیر خواہ ہو۔ اسی خیر خواہی کی عملی صورت کا نام مدد ہے۔ مظلوم کی مدد یہ ہے کہ اس کو ظلم سے بچایا جائے۔ ظالم کی مدد یہ ہے کہ اس کو اس کے ظلم سے روکا جائے۔ ظلم سے روکنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے ساتھ ٹکراؤ شروع کر دیا جائے۔ ظالم کی حقیقی مدد یہ ہے کہ اس کی اصلاح کے لیے دعا کی جائے۔ اس کو خیر خواہانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page