Urdu book · مطالعۂ حدیث

صد احادیث

Urdu book, p. 308

By Maulana Wahiduddin Khan

سخت کلامی کو سننے کے لیے تیار نہیں تو اس کو چاہیے کہ وہ اس سے قرض جیسا معاملہ بھی نہ کرے ۔ قرض لینے کے بعد اس کو بہر حال قرض دینے والے کو یہ حق دینا ہوگا کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار جس طرح کرنا چاہتا ہے کرے ۔ اس طرح کے معاملہ میں قرض لینے والے کو تحمل کی روش اختیار کرنا چاہیے۔ وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ برعکس طور پروہ قرض دینے والے کو تحمل کی نصیحت کرے۔ 076 — حق سے زیادہ نہ لینا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ دو آدمی اگر میرے پاس ایک زمین کا مقدمہ لے کر آئیں۔ ان میں سے ایک شخص زیادہ ہوشیاری کے ساتھ اگر اپنا مقدمہ پیش کرے اور اس کی وجہ سے زمین اس کو دے دی جائے، جب کہ حقیقت میں وہ زمین اس کی نہ ہو تو گویا کہ اس کو آگ کا ایک ٹکڑا دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز آدمی کا واقعی حق نہ ہو، اس کے معاملہ میں اگر وہ کسی تدبیر سے اپنے موافق عدالتی فیصلہ لے لے تب بھی وہ چیز اس کی نہ ہوگی۔ کوئی عدالتی فیصلہ حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز پر نا جائز قبضہ ہر حال میں برا ہے۔ عدالت کا کوئی فیصلہ نا جائز کو جائز نہیں بنا سکتا۔ اگر آدمی کا ضمیر یہ کہتا ہو کہ فلاں چیز میری نہیں ہے تو ایسی حالت میں اس کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اس چیز کو حق دار کے حوالے کرے، نہ کہ غلط تدبیر کے ذریعہ ناجائز طور پر دوسرے کی چیز پر قابض ہونے کی کوشش کرے۔ ضمیر سب سے بڑی عدالت ہے۔ سب سے بڑا فیصلہ وہ ہے جو ضمیر کی عدالت سے جاری کیا جائے ۔ 077 — جو اپنے لیے وہی دوسروں کے لیے پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ مومن وہ ہے جو دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ سماجی اخلاق کا ایک نہایت جامع اصول ہے۔ ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے کون سا رویہ اس کو پسند ہے اور کون سا رویہ نا پسند۔ ایسا ہی وہ دوسروں کے ساتھ کرنے لگے۔ وہ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو سلوک وہ اپنے لیے چاہتا ہے اور دوسروں کے ساتھ اس سلوک سے بچے جس کو وہ اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page