Urdu book · مطالعۂ حدیث

صد احادیث

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ کوئی بھی اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ میرے اور میرے رزق کے درمیان حائل ہو سکے۔ رزق میرا ایک ایسا حق ہے جو خود دنیا کے مالک نے میرے لیے لکھ دیا ہے۔ پھر کون ہے جو اس لکھے کو مٹا سکے۔ یہ عقیدہ آدمی کے اندر سے مایوسی کے احساس کو نکال دیتا ہے۔ وہ عین مسائل کے درمیان کھڑا ہو کر کہہ سکتا ہے کہ ــــ کوئی شخص میرے ایک جاب کو مجھ سے چھین سکتا ہے مگر کوئی شخص اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ میری قسمت کو مجھ سے چھین سکے۔ One can take away my job. But no one has the power to take away my destiny. 080 ــــ قناعت پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ وہ شخص کامیاب ہوا جس کو خدا نے ضرورت کے بقدر رزق دیا اور وہ اس رزق پر قانع رہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کامیابی کا راز ملے ہوئے پر قانع رہنا ہے نہ کہ نہ ملے ہوئے کے غم میں پڑے رہنا۔ دنیا میں جب بھی کوئی شخص صحیح اصول کے مطابق کمانے کی کوشش کرے تو وہ ضروراتی معاش حاصل کر لیتا ہے جو اس کی ضرورتوں کے لیے کافی ہو۔ اگر وہ اس ملے ہوئے پر راضی ہو جائے تو اس کا فائدہ اس کو ذہنی سکون کی صورت میں ملے گا۔ لیکن سکون ہمیشہ قناعت سے ملتا ہے اور قناعت کا مطلب ہے ملے ہوئے پر راضی ہو جانا۔ اس کے برعکس جو شخص ملے ہوئے کو کم سمجھے اور نہ ملے ہوئے کی طرف دوڑتا رہے وہ کبھی مطمئن نہیں ہو گا۔ اس لیے کہ دنیا میں چیزوں کی کوئی حد نہیں۔ آدمی خواہ کتنی ہی زیادہ چیزوں کو اپنے پاس جمع کرلے پھر بھی کچھ چیزیں باقی رہیں گی جو اس کو یہ لالچ دلائیں گی کہ مجھے یہ بھی حاصل کرنا چاہئے۔ اس طرح وہ ہمیشہ اور زیادہ کی لالچ میں پڑا رہے گا۔ وہ اسی طرح بے سکونی کی زندگی جئے گا یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر جائے گا۔ 081 ــــ کسی سے نہ مانگنا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ تم کسی سے کچھ نہ مانگو۔ کیوں کہ نیچے کے ہاتھ کے مقابلے میں اوپر کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page