صد احادیث
Urdu book, p. 318
By Maulana Wahiduddin Khan
پر کنٹرول نہ کر سکے۔ غصہ پر کنٹرول نہ کر سکنا خود اپنے آپ سے شکست کھا جانا ہے اور اپنے آپ سے شکست کھانا بلاشبہ سب سے زیادہ بری شکست ہے۔ 095 ـــ شیطان سے پناہ مانگنا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔ جب بھی تم کو محسوس ہو کہ شیطان تم کو بہکا رہا ہے تو تم کہو: اللهم إنى اعوذ بك من همزات الشيطان (اے خدا، میں شیطان کے وسوسوں کے مقابلہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں)۔ شیطان انسان کا دشمن ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان کو صحیح راستہ سے بھٹکائے۔ وہ طرح طرح کے وسوسے ڈال کر انسان کو سچائی سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان آدمی کو دکھائی نہیں دیتا۔ وہ خفیہ طور پر انسان کے اوپر حملہ کرتا ہے۔ انسان اس شیطانی حملہ کے مقابلہ میں بالکل بے بس ہے۔ اس سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے، خدا سے مدد مانگنا۔ خدا کا وعدہ ہے کہ جب بھی کوئی آدمی شیطان کے مقابلہ میں خدا سے پناہ مانگے گا وہ ضرور اس کو اپنی پناہ دے گا۔ یہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔ 096 ـــ طاقت ور کون پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں ہے جو لوگوں کو کشتی میں پچھاڑ دے۔ بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ یہ بلاشبہ کسی شخص کے طاقت ور ہونے کا سب سے زیادہ اعلیٰ معیار ہے۔ جسمانی مقابلہ میں کسی کو پچھاڑ نا کوئی بڑا کارنامہ نہیں، ایسا کارنامہ تو ایک حیوان بھی کر سکتا ہے۔ کسی انسان کے طاقتور ہونے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ جب اس کو کسی کے اوپر غصہ آئے تو وہ اپنے آپ کو پوری طرح کنٹرول میں رکھے۔ غصہ کے باوجود وہ انسانیت کے دائرہ سے باہر نہ جائے، وہ غصہ کے اوپر غالب رہے نہ کہ غصہ اس کے اوپر غالب آجاۓ۔ 097 ـــ مشکل میں آسانی قرآن میں فطرت کے جن قوانین کو بتایا گیا ہے ان میں سے ایک قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں مشکل کے ساتھ آسانی رکھی گئی ہے (الانشراح) یعنی مشکل کے بعد نہیں بلکہ خود مشکل کے ساتھ ہی آسانی کا پہلو شامل ہے۔ یہ فطرت کا ابدی قانون ہے وہ کبھی بدلنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader