اخلاق
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
درجات کی بلندی موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ قیامت آنے سے پہلے یہ آزادی ختم ہونے والی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دنیا میں جس طرح حق اور انصاف کے نمونے ہیں، اسی طرح یہاں ظلم اور زیادتی کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایک ابدی مسئلہ ہے۔ یہ انسانِ اول (آدم) کے زمانہ میں ہابیل اور قابیل کی نزاع کی صورت میں شروع ہوا اور قیامت کے ظہور تک جاری رہے گا۔ ایسی حالت میں ظلم و زیادتی کے مسائل کا حل کیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح زندگی کے دوسرے معاملات میں رہنمائی دی ہے، اسی طرح آپ نے زندگی کے اس نازک معاملہ میں بھی رہنمائی دی ہے۔ وہ رہنمائی یہ ہے: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أخبركم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا میں تم کو ایسا بعمل يرفع الله به الدرجات - قالوا بلى عمل نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ درجات کو بلند کرتا يا رسول الله - قال: تحلم على من يجهل عليك، ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں اے خدا کے رسول۔ آپ وتعفو عمن ظلمك وتعطى من حرمك نے فرمایا۔ جو شخص تم سے جہات کرے تم اس سے وتصل من قطعك ۔ درگزر کرو۔ جو شخص تمہارے ساتھ ظلم کرے تم اس کو معاف کر دو۔ جو شخص تم کو نہ دے تم اسے دو۔ جو شخص تم سے کٹے تم اس سے جڑو۔ اس حدیث کے الفاظ پر غور کیجئے۔ اس کے مطابق، درجات کی بلندی کا راز یہ ہے کہ آدمی جوابی اخلاق سے مکمل پرہیز کرے۔ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود درگزر کا طریقہ اختیار کرے۔ لوگ ظلم کریں تب بھی وہ انھیں معاف کر دے۔ لوگ محروم کرنے کی سازشیں کریں پھر بھی وہ ان کو دینے کا سلسلہ بند نہ کرے ۔ لوگ دوری اختیار کریں تب بھی وہ ان سے قریب ہونے کی کوشش جاری رکھے۔ یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے جو لوگ اس طریقہ پر چلیں وہ آپ کے مومن ہیں۔ جو لوگ اس طریقہ کو چھوڑ دیں، حتیٰ کہ اپنے زبان و قلم سے اس کی تردید کریں، وہ بلاشبہ آپ کے منکر ہیں، خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو مومن کامل سمجھتے ہوں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader