حکمتِ نبوی
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ گویا اپنے اور فریق ثانی کے درمیان قائم شدہ اسٹیٹسکو کو مان لینا تھا۔ اس حکمت کا نتیجہ یہ ہوا کہ پیغمبرِ اسلام کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنے آپ کو مزید مستحکم کر سکیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور صرف دو سال کے اندر آپ کے لئے مکہ میں فاتحانہ داخلہ ممکن ہو گیا۔ مشکل میں آسانی پیغمبرِ اسلام ﷺ نے ۸ھ میں مکہ فتح کیا۔ اس کے بعد آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ سے طائف کے لئے روانہ ہوئے۔ اس زمانہ میں عرب میں ہموار سڑکیں نہیں تھیں۔ چلتے ہوئے ایک جگہ ایک تنگ راستہ آیا جو دو پہاڑیوں کے درمیان سے گزرتا تھا۔ چنانچہ یہ راستہ اپنی اسی صفت کے ساتھ مشہور ہو گیا تھا۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ جب اس جگہ پہنچے تو آپ نے لوگوں سے پوچھا کہ اس راستہ کا نام کیا ہے (ما اسم هذه الطريق) لوگوں نے جواب دیا کہ اس کا نام تنگ راستہ ہے (فقيل له الضيقة) آپ نے جواب دیا کہ نہیں، یہ ایک آسان راستہ ہے (فقال بل هي اليسرى) (سیرت ابن ہشام ۲/ ۱۷۲) اس وقت پیغمبرِ اسلام ﷺ کے ساتھ دس ہزار سے زیادہ آدمی تھے۔ یہ لوگ اگر افقتی انداز میں پھیل کر چلتے تو یقیناً ان کے لئے اس راستہ سے گزرنا مشکل ہوتا، ایسی حالت میں وہ ان کے لئے تنگ بن جاتا۔ لیکن یہی لوگ اگر قطار بنا کر چلیں تو ان کے لئے راستہ سے گزرنا مشکل نہ رہے گا، اور وہ بظاہر تنگی کے باوجود ان کے لئے عملی طور پر آسان ہو جائے گا۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے اپنے جواب میں اسی عملی حکمت کی طرف اشارہ فرمایا۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ کے اس واقعہ سے زندگی کا ایک اہم راز معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ حسب حالت تدبیر ہے۔ اس حکیمانہ تدبیر کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader