مطالعۂ سیرت
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
عصر میں یسر پیغمبر اسلام اور آپ کے ابتدائی اصحاب نے مکہ میں توحید کی دعوت دینا شروع کیا تو وہاں کے لوگوں کی طرف سے سخت رد عمل پیش آیا۔ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگا کہ مکہ کی سر زمین کے لیے صرف مشکلات و مصائب کی سر زمین ہے۔ اس وقت قرآن میں یہ رہنما آیت اتری کہ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے، مشکل کے ساتھ آسانی ہے ( فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا ) اس سے پیغمبر کے فاتحانہ طریقہ کار کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ وہ کبھی بھی صرف مشکلوں کی آماجگاہ نہ بنے۔ یہاں ہمیشہ مشکل کے ساتھ عین اسی وقت آسانی بھی ضرور پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جہاں بظاہر ڈس ایڈوانٹیج ہو وہیں عین اسی کے ساتھ ایڈوانٹیج کی صورتیں بھی ضرور موجود ہو۔ ’عسر میں یسر‘ کی مثال یہ ہے کہ مکہ میں اگر ابو جہل جیسے منکر تھے تو وہیں عمر جیسے اعتراف کرنے والے بھی موجود تھے۔ اس وقت اگر کعبہ سے بتوں کو نکالنا مشکل تھا تو عین اسی وقت یہ ممکن تھا کہ لوگوں کے دلوں سے غیر اللہ کی پرستش کا جذبہ نکالا جائے۔ اسی طرح دور اول میں اہل اسلام کو عرب میں جو مشکلیں پیش آئیں وہ چیلینج بن کر اہل اسلام کی صلاحیتوں کو جگانے کا سبب بن گئیں۔ یہاں تک کہ، مارگولیٹھ کے الفاظ میں ان میں کا ایک ایک شخص ہیرو بن گیا۔ سیرت کا یہ پہلو بتاتا ہے کہ اہل اسلام جب اپنے آپ کو مسائل کے درمیان پائیں تو ان کو پیشگی طور پر یقین کرنا چاہیے کہ یہاں عین مسائل کے ساتھ ہی مواقع بھی موجود ہیں۔ ان کو چاہیے کہ مسائل کے خلاف فریاد کرنے کے بجائے مواقع کو دریافت کریں اور ان کو استعمال کر کے اپنی تاریخ کو آگے بڑھائیں۔ ہجرت : مقام عمل کی تبدیلی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات مکہ میں سخت سے سخت تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ وہاں کے مخالفین آپ کے قتل پر آمادہ ہو گئے۔ اس وقت آپ نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے جس کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ یہ ہجرت سادہ طور پر ترک وطن نہ تھی۔ یہ در اصل ایک اسٹریٹیجی کا معاملہ تھا۔ اس کو ایک لفظ میں مقام عمل کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے جب کہ کو ایک ناموافق مقام پایا تو آپ نے مدینہ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader