حدیبیہ منہاج
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
افضل ہو، تو اس کی مدد فرما اور اس کو فتح دے (انهم لما نفروا الى نصرة العير تعلقوا با ستکار الكعبة وقالوا : اللهم انصر أهدى الطائفتين و أفضل الدينين)، الجامع لاحكام القرآن ۴/ ۳۸۷ اس کے بعد جب دونوں فریقوں میں ٹکراؤ ہوا تو اہل ایمان کو فتح اور اہل شرک کو شکست ہوئی ۔ چنانچہ قرآن میں اہل مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر تم فیصلہ چاہتے تھے۔ تو فیصلہ تمہارے سامنے آگیا اور اگر تم باز آجاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (الانفال ۱۹) جنگ بدر کی اسی خصوصیت کی بنا پر اس کو یوم الفرقان (الانفال ۴۱) کہا گیا ہے۔ جنگ بدر میں واضح فیصلہ آنے کے بعد عرب کے لوگ، تھوڑے سے سرداروں کو چھوڑ کر ، سخت متزلزل ہوگئے ۔ ان کا یہ خیال ہو گیا کہ صداقت ہماری طرف نہیں ہے بلکہ محمد کی طرف ہے ۔ اس طرح بدر کے بعد عربوں کی اکثریت دین توحید کی طرف مائل ہوگئی۔ تاہم کچھ جابر اور سرکش سرداروں کے خوف سے ہر ایک اپنے ایمان کو چھپائے رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ قدیم عرب (بنواسماعیل) اپنی سادگی اور اپنے فطری مزاج کی بنا پر اول روز ہی سے امکانی طور پر مومن تھے ۔ اس کے بعد بدر کے موقع پر خدا سے استفتاح جب الٹی شکل میں برآمد ہوا تو ان کا ابتدائی میلان زیادہ طاقتور رجحان میں تبدیل ہو گیا۔ وہ امکانی طور پر اسلام کے دروازہ پر پہنچ گئے۔ اب مسئلہ صرف ایک تھا، اور وہ سرداران قریش کا تھا۔ وہ اپنی قیادت اور برتری کو قائم رکھنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ چھیڑے ہوئے تھے اور بظاہر اس پر راضی نہ تھے کہ آپ کا اور آپ کے موحدانہ مشن کا خاتمہ کئے بغیر وہ اپنی جنگ جوئی کو ختم کر دیں ۔ انھیں سرکش سرداروں کے خوف سے مکہ اور اطراف مکہ کے لوگ اسلام قبول کرنے سے گھبراتے تھے۔ کسی ندی میں پانی بہہ کر آئے اور بیراج کے آہنی گیٹ پر رک جائے۔ اب ایک طرف پانی کے ذخائر ہیں اور دوسری طرف کھیت اور باغات - ایسی حالت میں اگر روک دروازہ کو ہٹا دیا جائے تو پانی کا سیلاب اپنے آپ بہہ کر کھیتوں اور باغوں میں پہنچ جائے گا۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader