تکمیل دین
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے بھی پوری وفاداری کے ساتھ اتاترک کی جارحانہ سیکولر پالیسی جاری رکھی۔ مگر تقریبًا پچاس سال کی مخالف اسلام حکومتی مہم کے باوجود ترک کی میں اسلام زندہ رہا۔ اتاترک کی اسلام کو ختم کرنے کی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ حتی کہ خود عصمت انونو کو اپنی آخر عمر میں اس کا اعتراف کرنا پڑا۔ عصمت انونو جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آخر وقت میں انھوں نے اس معاملہ میں اپنا جو اثر بیان کیا وہ عربی رپورٹ کے مطابق یہ تھا : اننى لا اكاد اصدق ما اری۔ لقد بدلنا كل میرے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہے جس کو میں دیکھ ما نستطيع لا نتزاع الاسلام من نفوس رہا ہوں۔ ہم نے اپنے بس بھر تمام کوشش کی کہ ترکوں الاتراك وغرس مبادئ الحضارة الغربية کے دل سے اسلام کو نکال دیں۔ اور اس کی جگہ مغربی مكانه - فاذابنا نفاجأ بما لم نكن نتوقعه۔ تہذیب کو ان کے اندر داخل کر دیں۔ مگر حیرت انگیز فقد غرسنا العلمانية فاشمرت الاسلام طور پر نتیجہ ہماری توقع کے خلاف نکلا۔ چنانچہ ہم نے (الوعی الاسلامی، ذوالقعده ۵۱۴۰۸) سیکولرزم کا پودا بویا مگر پھل نکلا تو وہ اسلام تھا۔ اس سلسلہ میں دوسری ناکام مثال سوویت یونین کی ہے۔ اس علاقہ میں اولًا فکری طور پر اور پھر ۱۹۱۷ء سے طاقت ور حکومت کے زور پر اسلام کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ مجموعی طور پر یہ کوشش تقریبا ایک سو سال تک جاری رہی۔ مگر ۱۹۹۱ میں خود کمیونسٹ ایمپائر ٹوٹ گیا۔ اور اس کے بعد حیرت انگیز طور پر اس کے طبقہ سے اسلام زندہ حالت میں نکل آیا۔ امریکی میگزین ٹائم (۱۲ مارچ ۱۹۹۰) نے سوویت علاقہ کے بارہ میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ کا خاص مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ نئے روس میں مذہب کی حیثیت کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے ۵۵ ملین سوویت مسلمانوں کا بھی جائزہ لیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس علاقہ میں اسلام دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ زندہ ہوگیا ہے۔ اس بات کو پر رپورٹ کی سرخی معنی طور پر یہ تھی ۔ کارل مارکس محمد کو جگہ دیتا ہے : Karl Marx makes room for Muhammad. اسلام کے خلاف تاریخ کا ہر چیلنج صرف یہ ثابت کر رہا ہے کہ اسلام ابدی طور پر ایک دین مستحکم ہے، اس کو کوئی زیر کرنے والا نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader