آخری بات
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
عام طور پر لوگ جواب دینے کو دفاع سمجھتے ہیں۔ اگر کسی شخص سے کوئی تکلیف پہنچے تو فوراً اس سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ دفاع کر رہے ہیں، مگر اس سے بھی زیادہ بڑا دفاع یہ ہے کہ زیادتی کے جواب میں آدمی خاموش ہو جائے۔ مقابلے کے بجائے وہ اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ خاموشی بے عملی نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بڑا عمل ہے۔ آدمی جب جوابی ٹکراؤ کرتا ہے تو وہ صرف اپنی ذات پر بھروسہ کر رہا ہوتا ہے۔ مگر جب وہ زیادتی کے بعد چپ ہو جاتا ہے تو وہ پورے نظامِ فطرت کو اپنی طرف سے مقابلہ کرنے کے لیے کھڑا کر دیتا ہے۔ ذاتی دفاع ایک کمزور دفاع ہے۔ اور فطرت کا دفاع زیادہ طاقت ور دفاع۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا میں یہ نظام قائم کیا ہے کہ جب بھی کہیں کوئی گندگی پیدا ہوتی ہے تو فوراً بے شمار بیکٹیریا وہاں جمع ہو کر اس مادہ کو (decompose) کرنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ گندگی کا خاتمہ کر سکیں۔ اسی طرح یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قائم ہو ا نظام ہے کہ جب کوئی انسان کسی کے اوپر زیادتی کرے تو پورا نظامِ فطرت اس کی اصلاح کے لیے حرکت میں آ جائے۔ اس اعتبار سے خاموشی گویا ایک قسم کا انتظار ہے۔ جب آدمی زیادتی پر خاموش ہو جاتا ہے تو گویا وہ اپنے آپ کو حالتِ انتظار کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ عالمی ضمیر کو کام کرنے کا موقع دے کر اس کے نتیجہ کا منتظر ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ وہ خود اقدام کر کے فطرت کے عمل میں بگاڑ نہ پیدا کرے۔ بلکہ انتظار کی پالیسی اختیار کر کے فطرت میں ہونے والے عمل کے ساتھ تعاون کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader