Urdu book · مطالعۂ سیرت

دلیل نبوت

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

ياقوم ، تعلمُو والله انه للنبيّ الذى توعِدكم به يهود فلا تسبقنكم اليه فاجابوه فيما دعاهم اليه۔ (سيرة النبی لابن هشام ٣٨/٢) لوگو سمجھ لو۔ خدا کی قسم، ضرور یہ وہی نبی ہے جس کا ذکر تم سے یہودی کیا کرتے تھے۔ دیکھو، کہیں وہ اس کی جانب تم پر سبقت نہ لے جائیں۔ پس جس چیز کی دعوت آپ نے انھیں دی اس کو انھوں نے قبول کر لیا۔ کا شکار پاش پاش ہو گیا، اور وٹ یہی معاملہ خود مدینہ کے عربوں کے سلسلہ میں ایک اور شکل میں پیش آیا۔ ہجرت سے چند سال پہلے ۶۱۸ء میں مدینہ کے قبائل اوس اور خزرج میں خون ریز جنگ ہوئی۔ ان حالات میں وہ محسوس کرنے لگے کہ انھیں ایک قومی قائد کی شدید ضرورت ہے۔ یہی بات ہے جس کو حضرت عائشہ رض نے اس طرح فرمایا : كان يوم بعاث يوماً قدم الله لرسوله صلى الله عليه وسلم فقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم و قد افترق ملاهم وقتلت سرواتهم وجرحوا فقدم الله لرسوله صلى الله عليه وسلم في دخولهم في الاسلام - (فتح الباري بشرح صحيح البخاري ، ۱۳۷/۷ یہی بات انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار بعاث کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا جو اللہ نے اپنے رسول کی خاطر تمہید کے طور پر برپا کیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو ان کے سردار متفرق ہو چکے تھے۔ ان کے سرآوردہ لوگ مقتول اور زخمی ہو گئے تھے۔ چنانچہ اس واقعہ کو اللہ نے اپنے رسول کے لیے بطور تمہید برپا کیا جو اہل مدینہ کے لیے دخول اسلام میں معاون بنا۔ نے اس طرح کہی ہے کہ مدینہ کی ایک قاہرہ جنگ میں بہت یہی بات انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے اسی طرح کہی ہے کہ مدینہ کی ایک قبائلی جنگ میں بہت زیادہ خون بہا تھا جو ۶۱۸ میں ہوئی۔ اس کے بعد امن پوری طرح قائم نہیں ہو سکا تھا۔ محمد کو مدینہ بلا کر وہاں کے بہت سے عرب غالباً یہ امید کر رہے تھے کہ وہ مخالف گروہوں کے درمیان ثالث کا کام کریں گے ۔ اور یہود سے اہل مدینہ کے ربط نے غالباً انھیں ایک مسیحائی مذہبی قائد کو قبول کرنے کے لیے تیار کیا ہو گا جو کہ انھیں ظلم سے نجات دلائے اور ایک ایسی سلطنت بنائے جس میں انھیں انصاف مل سکے : Much blood had been shed in a battle at about 618, and peace was not fully restored. In inviting Muhammad to Medina, many of the Arabs there probably

which justice prevaild. (12/607)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page