Urdu book · مطالعۂ سیرت

دلیل نبوت

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

۶۳۲ میں پیغمبر کی وفات کے بعد خلفاء نے عرب بدؤوں کی طاقت کا رخ ایک بامقصد اور نظم منصوبہ فتح کی طرف موڑ دیا۔ نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ ۶۳۶ میں بازنطینی فوج کو دریائے یرموک کے کنارے ایک جنگ میں شکست ہوئی۔ اس کے بعد فلسطین اور شام کا دروازہ عربوں کے لیے کھل گیا۔ اسکندریہ نے ۶۴۲ میں ہتھیار ڈال دیا اور پھر ہمیشہ کے لیے مصر کا صوبہ بازنطینیوں کے اقتدار سے نکل گیا۔ اسی درمیان عربوں نے میسوپوٹامیا کے علاقہ میں پیش قدمی کی اور جلد ہی ایرانی فوج کو شکست دے کر ان کی راجدھانی کو فتح کر لیا۔ اس طرح ایرانی شہنشاہیت کی لمبی تاریخ ختم ہو گئی۔ اس وقت کی بازنطینی سلطنت اور ایرانی سلطنت کے کم از کم تین پہلوؤں نے عربوں کے لیے اس شاندار کامیابی کو آسان بنا دیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کی۔ اول، دونوں سلطنتیں جنگوں کے نتیجہ میں بالکل ختم ہو چکی تھیں اور ۶۳۲ سے پہلے انھوں نے اپنی فوجوں کو گھٹا دیا تھا۔ دوم، دونوں ہی سلطنتیں عرب سرحد پر اپنی ماتحت حکومتوں کی مدد بند کر چکی تھیں جنھوں نے پچھلی ایک صدی سے صحرائی بدؤوں کو آگے بڑھنے سے روک رکھا تھا۔ سوم، اور خاص طور پر بازنطینیوں کے معاملہ میں مذہبی اختلافات جنھوں نے شامیوں اور مصریوں کی قسطنطنیہ کے ساتھ وفاداری کو کمزور کر دیا تھا : At least three aspects of the contemporary situation of Byzantium and Persia account for the phenomenal ease with which the Arabs overcame their enemies: first, both empires, exhausted by wars, had demobilized before 632; second, both had ceased to support those client states on the frontiers of the Arabian Peninsula that had restrained the Bedouin of the desert for a century past; third, and particularly in reference to Byzantium, religious controversy had weakened the loyalties that Syrians and Egyptians rendered to Constantinople. (3/557) ۵۔ موسموں کی تبدیلی کا تعلق سورج کے گرد زمین کی گردش پر ہے۔ شمسی کیلنڈر اسی کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ چنانچہ شمسی کیلنڈر میں ہر موسم ہمیشہ ایک ہی مہینہ میں آتا ہے۔ مثلاً دسمبر میں ہمیشہ سردی اور جون میں ہمیشہ گرمی۔ مگر قمری کیلنڈر، جس کا سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے، ماہ قمری مہینوں کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ اس لیے قمری کیلنڈر میں مہینے ہمیشہ موسم کے مطابق نہیں ہوتے۔ مثلاً رمضان کا مہینہ کبھی جاڑے کے موسم میں آتا ہے اور کبھی گرمی کے موسم میں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے جب اللہ کے حکم سے کعبہ کی تعمیر کی اور سورج کا نظام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page