فرشتہ یا شیطان
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
فرشتہ یا شیطان خدا کے وفادار بندوں کے مشیر فرشتے ہوتے ہیں اور خدا کے باغی بندوں کے مشیر شیطان ۔ اپنی بول چال میں اور زندگی کے معاملات میں کوئی آدمی جو انداز اختیار کرتا ہے اسی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون آدمی کس کو اپنا مشیر بنائے ہوئے ہے۔ جو آدمی اختلاف کے وقت تواضع کرے اور جب کوئی حق اس کے سامنے پیش کیا جائے تو حق کے سامنے جھک جائے وہ فرشتوں کا ساتھی ہے۔ ایسا آدمی اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو یہ توفیق ملی ہے کہ خدا کے فرشتے اس کے مشیر بنیں۔ کیونکہ یہ فرشتوں کی صفت ہے کہ وہ گھمنڈ نہیں کرتے۔ وہ کسی جھجھک کے بغیر حق کا فوراً اعتراف کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو اختلاف کے وقت ظلم اور بے انصافی پر اتر آئیں اور متکبرانہ طریقہ اختیار کریں وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ شیطان کے ساتھی ہیں۔ انھوں نے شیطان کو اپنا مشیر بنا رکھا ہے۔ کیوں کہ قرآن میں گھمنڈ اور سرکشی کو شیطان کی صفت بتایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ موت اور آخرت کے معاملات سے بے خبری ہے جس نے لوگوں کو سرکشی اور بے انصافی کے لئے جری بنادیا ہے ۔ اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ کیسا ہیبت ناک دن ان کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے تو ان کے چلتے ہوئے قدم رک جائیں اور ان کے پاس بولنے کے لئے الفاظ نہ رہیں۔ جھوٹی تاویلیں کرنے کے بجائے وہ فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader