چھوٹی بڑیائی
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
جھوٹی بڑائی کسی شخص نے اپنی دنیا کی زندگی کو کامیاب بنالیا ہو تو اکثر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کی آخرت بھی ضرور کامیاب ہوگی۔ حالانکہ دونوں میں کوئی لازمی تعلق نہیں۔ دنیا کی بڑائی بڑائی نہیں۔ وہ صرف امتحان کی غرض سے ہے۔ کسی کو اچھے حالات ملیں یا کسی کو برے حالات، دونوں امتحان کے لئے ہیں۔ یہ آدمی کی جانچ کے پرچے ہیں نہ کہ اس کے عمل کا انجام۔ دوسروں کے مقابلہ میں آپ کو کوئی بڑائی مل جائے۔ یا عزت حاصل ہو جائے تو اپنے مقابلہ میں دوسروں کو حقیر نہ سمجھے۔ کیوں کہ بڑے اور چھوٹے دونوں آخر کار برابر ہو جانے والے ہیں۔ موت دونوں کو بالکل ایک سطح پر پہنچادے گی ۔ اس کے بعد بڑائی اس کے لئے ہوگی جس کو خدا بڑا بنائے، اور چھوٹا وہ ہوگا جو خدا کے نزدیک چھوٹا قرار پائے۔ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں آدمی حق کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر اپنے کو اونچے مقام پر بٹھا لیتا ہے۔ مگر بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ پردہ ہٹے اور ہر آدمی اپنی اصل صورت میں سامنے آجاۓ ۔ اس وقت کتنے عزت والے ذلت کے گڑھے میں پڑے ہوۓ دکھائی دیں گے۔ کتنے انصاف اور انسانیت کا نعرہ لگانے والے انصاف اور انسانیت کے قاتل قرار دئے جائیں گے۔ کتنے بہادری کا ٹائٹل لینے والے بزدلی کی کالک سے روسیاہ ہورہے ہوں گے۔ کتنے سچائی پر فدا ہونے والے اس حال میں نظر آئیں گے گویا سچائی سے ان کا کوئی تعلق ہی نہ تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader