خدا کی ترازو
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی ترازو امتحان کی اس دنیا میں ہر ایک کے لئے آزادی ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص اپنے پڑوسی کو ستائے اس کے باوجود اس کو دینداری کے اسٹیج پر بیٹھنے کے لئے نمایاں جگہ ملی ہوئی ہو۔ ایک شخص اپنی لیڈری کے لئے سرگرم ہو پھر بھی وہ مجاہدِ حق کے نام سے شہرت پائے۔ ایک شخص اپنے اہل معاملہ سے بے انصافی کا طریقہ اختیار کرے اس کے باوجود امن وانصاف کے نام پر ہونے والے اجلاس میں اس کو صدارت کے لئے بلایا جائے۔ ایک شخص کی تنہائیاں اللہ کی یاد سے خالی ہوں مگر عوامی مقامات پر وہ اللہ کا جھنڈا اٹھانے والا سمجھا جاتا ہو۔ ایک شخص کے اندر مظلوم کی حمایت کا کوئی جذبہ نہ ہو پھر بھی اخبارات کی سرخیویں میں اس کو مظلوموں کے حامی کی حیثیت سے نمایاں کیا جا رہا ہو۔ ایک شخص صرف قول کا کارنامہ دکھا رہا ہو، پھر بھی کریڈٹ دینے والے اس کو عمل کا کریڈٹ دے رہے ہوں۔ ہر آدمی کی اصل حقیقت خدا کے علم میں ہے مگر دنیا میں وہ لوگوں کی حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے۔ آخرت میں وہ ہرایک کی حقیقت کھول دے گا۔ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدا کی ترازو کھڑی ہو اور ہر آدمی کو تول کر دیکھا جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نہیں تھا۔ اس وقت کا آنا مقدر ہے۔ کوئی شخص نہ اس کو ٹال سکتا اور نہ کوئی شخص اپنے آپ کو اس سے بچا سکتا۔ کامیاب صرف وہ ہے جو آج ہی اپنے کو خدا کی ترازو میں کھڑا کرے۔ کیونکہ جو شخص کل خدا کی ترازو میں کھڑا کیا جائے اس کے لئے بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader