Urdu book · نارِ جہنم

عدالت میں پیشی

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

عدالت میں پیشی موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں ، وہ ہماری اصل زندگی کا آغاز ہے۔ موت دراصل کسی انسان کا وہ وقت ہے جب وہ مالک کائنات کی عدالت میں آخری فیصلہ کے لئے پیش کر دیا جاتا ہے۔ موت سے پہلے آدمی کو بہت سے کام نظر آتے ہیں۔ مگر موت کے بعد آدمی کے سامنے صرف ایک ہی کام ہوگا ــــ یہ کہ خدا کے غضب سے وہ کس طرح بچے ۔ جب آدمی کے پاس بہت زیادہ وقت ہو تو وہ بہت سے کام چھیڑ دیتا ہے۔ مگر جس شخص کو وقت کے صرف چند لمحے حاصل ہوں وہ صرف وہی کام کرتا ہے جو انتہائی ضروری ہے۔ فیصلہ کن لمحات میں کوئی شخص غیر متعلق یا غیر اہم کام میں مصروف ہونے کی حماقت نہیں کرتا۔ موت کے معاملہ کی نزاکت اس وقت بہت بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ وہ کسی بھی وقت کسی بھی شخص کے لئے آسکتی ہے۔ ایسی حالت میں ایک بتانے والے کے پاس سب سے پہلی اور سب سے بڑی بات جو لوگوں کو بتانے کے لئے ہونی چاہئے وہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو موت کے خطرے سے آگاہ کرے۔ وہ کل سے پہلے لوگوں کو کل کے بارے میں خبردار کر دے۔ اسلام کی دعوت کیا ہے ، آخرت کی چیا تونی ۔ یہ قبر کے اُس پار کے معاملات سے قبر کے اِس پار والوں کو باخبر کرنا ہے۔ اسلام کا داعی موت اور زندگی کے درمیان کھڑا ہوتا ہے۔ اس کو موت سے پہلے مر جانا پڑتا ہے تاکہ وہ دوسری طرف کی دنیا کو دیکھے اور مُردوں کے احوال سے زندوں کو باخبر کر سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page