Urdu book · نارِ جہنم

آزمائش

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

آزمائش آدمی کا معاملہ جب کسی سے پڑتا ہے تو اس کو وہ بس ایک انسان کا معاملہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوراً سرکشی اور بے انصافی پر اتر آتا ہے۔ اگر وہ جانے کہ ہر معاملہ خدا کا معاملہ ہے تو وہ کبھی سرکش نہ بنے، وہ کبھی بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب خدا کی اجازت اور اس کے منصوبہ کے تحت ہو رہا ہے۔ اس کے پیچھے خدا کی حکمت امتحان کام کر رہی ہے۔ ہر واقعہ جو پیش آتا ہے وہ اس لئے پیش آتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے متعلق افراد کو آزمایا جائے۔ حالات میں ڈال کر ہر ایک کو دیکھا جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا نہیں تھا۔ کسی واقعہ کے دوران یہ دیکھنا مقصود ہوتا ہے کہ آدمی اپنے پڑوسی اور اپنے صاحبِ معاملہ کو سستاتا ہے یا انصاف کے مطابق اس کا حق ادا کرتا ہے۔ کوئی واقعہ اس لئے پیش آتا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ لوگ اپنے کو جس ترازو سے تولتے ہیں اسی سے دوسرے کو بھی تول رہے ہیں یا اپنے اور دوسرے کے لئے انھوں نے الگ الگ باٹ بنا رکھے ہیں۔ کسی واقعہ کا مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کہ کون آدمی مفاد اور مصلحت کو اہمیت دیتا ہے اور وہ کون ہے جو مفاد اور مصلحت کو نظر انداز کر کے سچائی کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ یہی وہ مواقع ہیں جو آدمی کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ان مواقع پر درست رویہ اختیار کر کے ایک شخص جنت کا مستحق بن جاتا ہے اور دوسرا شخص غلط رویہ اختیار کر کے اپنے کو جہنم میں گرا لیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page