Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

درخت کی طرح آگے بڑھنا

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

سے جو ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کے لیے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔ موجودہ انجیل میں یہ تمثیل ان لفظوں میں ہے— اور اس نے کہا، خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں بیج ڈالے اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے۔ اور وہ بیج اس طرح اُگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے۔ زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے۔ پتی، پھر بالیں، پھر بالوں میں تیار دانے۔ پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے۔ کیونکہ کاٹنے کا وقت آپہنچا (مرقس 26-32: 4)۔ انجیل اور قرآن کی اس تمثیل میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے اصحاب کا اجتماعی ارتقا، درخت کی مانند ہوگا۔ اس کا آغاز بیج سے ہوگا، پھر وہ دھیرے دھیرے بڑھے گا اور اپنا تنہ مضبوط کرتے ہوئے اوپر اٹھے گا۔ یہاں تک کہ فطری رفتار سے تدرجی ترقی کرتے ہوئے اپنے کمال کو پہنچ جائے گا۔ اس کی ترقی اتنی شان دار ہوگی کہ ایک طرف اہل ایمان اس کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوں گے اور دوسری طرف دشمن دانت پیس رہے ہوں گے کہ اس کا معاملہ اتنا مضبوط ہے کہ اس کے خلاف ہمارا کچھ بس نہیں چلتا۔ اسلام کو درخت کی طرح ترقی دینے کے لیے خدا کا یہ منصوبہ تھا جو صحابہ کرام کے ذریعہ انجام پایا۔ تاہم یہ کوئی آسان معاملہ نہ تھا۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ وہ جلد بازی کے بجائے صبر کو اپنا طریقہ بنائیں۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ فوری محرکات کے تحت وہ کوئی اقدام نہ کریں۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ وہ اپنے ذوق پر چلنے کے بجائے قوانین فطرت کی پیروی کریں۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ وہ اس سے بے پروا ہو کر کام کریں کہ نتیجہ ان کی زندگی میں سامنے آتا ہے یا ان کے بعد۔"درخت اسلام" کو اگانے کے لیے ضرورت تھی کہ وہ اپنے جذبات کو کچلیں اور اپنی امنگوں کو دفن کر دیں۔ صحابہ کرام نے یہ سب کیا۔ انہوں نے کسی تحفظ کے بغیر اپنے آپ کو خدائی اسکیم کے حوالہ کر دیا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ زمین میں خدا کا دین ایک ایسے ابدی باغ کی صورت میں کھڑا ہو گیا جس کو ساری دنیا مل کر بھی مٹانا چاہے تو نہ مٹا سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page