Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

اور خود حضرت خراش کو بھی قتل کرنے کے لیے دوڑے ۔ مگر وہ کسی طرح بچ کر واپس آگئے ۔ پھر آپ نے حضرت عثمان کو یہ پیغام لے کر مکہ بھیجا کہ تم لوگ مزاحمت نہ کرو، ہم عمرہ کے مراسم ادا کر کے خاموشی سے واپس چلے جائیں گے ۔ اہلِ مکہ نے حضرت عثمان کو بھی روک لیا۔ پھر مکرز بن حفص پچاس آدمیوں کو لے کر رات کے وقت حدیبیہ پہنچا اور مسلمانوں کے پڑاؤ پر تیر اور پتھر برسانے لگا۔ مکرز کو گرفتار کر لیا گیا ۔ مگر اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کو بلا شرط چھوڑ دیا گیا ۔ اسی طرح مقام تنعیم کی طرف سے 80 آدمی صبح سویرے آئے اور عین نماز کے وقت مسلمانوں پر چھاپہ مارا۔ یہ لوگ بھی پکڑ لیے گئے۔ مگر آپ نے ان کو بھی غیر مشروط طور پر رہا کر دیا۔ اس کے بعد قریش سے طویل مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہوئی ۔ مگر یہ صلح ظاہر بینوں کے لیے سراسر قریش کی فتح اور مسلمانوں کی شکست کے ہم معنی تھی ۔ مسلمان یہ سمجھے ہوئے تھے کہ وہ بشارتِ الہی کے تحت عمرہ کرنے کے لیے مکہ جا رہے ہیں مگر جو صلح ہوئی اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط پر راضی ہو گئے کہ وہ عمرہ کیے بغیر حدیبیہ سے واپس چلے جائیں ۔ اگلے سال وہ عمرہ کے لیے آئیں مگر صرف تین دن مکہ میں ٹھہریں اور اس کے بعد خاموشی سے واپس چلے جائیں ۔ اس طرح کی ذلت آمیز دفعات مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے بالکل کافی تھیں ۔ مگر آپ نے بظاہر شکست کے باوجود تمام دفعات کو منظور کر لیا۔ قریش نے اس موقع پر آپ کے ساتھ جو کچھ کیا آپ کو اشتعال دلانے کے لیے کیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح آپ کو مشتعل کر کے آپ کی طرف سے کوئی جارحانہ اقدام करा دیں تاکہ قریش کے لیے آپ سے لڑنے کا جواز نکل آئے۔ حرم کی زیارت سے روکنایوں بھی عرب روایات کے خلاف تھا۔ مزید یہ کہ یہ ذوقعدہ کا مہینہ تھا جو عربوں میں حرام مہینہ شمار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page