Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

جنگ کا قانون

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ کا قانون وقاتلوا في سبيل الله الذين يقاتلونكم اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے ولا تعتدوا إن الله لا يححب المعتدين لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (البقرہ ۱۹۰) یہاں کہنا یہ تھا کہ جو لوگ تمہارے خلاف لڑائی چھیڑیں ان سے دفاع کے لیے لڑو۔ مگر دفاع کو حذف کر کے فرمايا کہ ان سے اللہ کے راستہ میں لڑو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن کا دفاع بھی اللہ کے لیے ہوتا ہے ۔ وہ نفرت اور انتقام کے جذبہ کے تحت نہیں ہوتا بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ نے دفاع کرنے کی اجازت دی ہے ۔ مومن کا ٹھہرنا بھی اللہ کے لیے ہوتا ہے اور اس کا چلنا بھی اللہ کے لیے ۔ اسی ربانی جذبہ کی وجہ سے یہ ہوتا ہے کہ مومن کی جنگ صرف دفاع کی حد تک محدود رہتی ہے۔ جہاں دفاع کا مسئلہ ختم ہوا وہیں اس کی جنگ بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مومن جنگ کے دوران ظالم نہیں بنتا۔ وہ صرف جنگجو افراد پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔ وہ عورتوں اور بوڑھوں اور بچوں کو نہیں مارتا۔ وہ غیر مقاتلین کو اپنے انتقام کا نشانہ نہیں بناتا۔ ”اور زیادتی نہ کرو“ کا مطلب یہ ہے کہ تم خود کسی کے خلاف جارحیت کر کے جنگ کا آغاز نہ کرو۔ القرطبی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اور کہا گیا ہے کہ زیادتی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو تم سے جنگ نہ کرے تم بھی اس سے جنگ نہ کرو (وقیل لا تعتدوا (ای لا تقاتلوا من لم يقاتل) الجامع لاحکام القرآن ۳۵۰/۲ اسلام کے مطابق، اصل مطلوب چیز امن ہے نہ کہ جنگ۔ اگر کوئی جنگ پر آمادہ ہو تو پہلی کوشش یہ ہوگی کہ جنگ کو کسی نہ کسی طرح ٹال دیا جائے ۔ جب جنگ سے بچنے کی کوشش آخری حد تک ناکام ہو جائے اور فریق ثانی جنگ کا آغاز کر بیٹھے تو اس کے بعد آخری چارہ کے طور پر دفاعی جنگ کی جائے گی۔ مگر جہاں تک جارحانہ جنگ کا تعلق ہے، اسلام کسی حال میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ فرد انسانی کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے ۔ یہ ایک تعمیری کام ہے جو صرف پر امن حالات ہی میں ہو سکتا ہے نہ کہ جنگ اور تشدد کے حالات میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page