فیصلہ خداوندی
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
فیصلہ خداوندی مفسرین قرآن کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے کہ ایک مجلس تھی جس میں یہودی تھے، عیسائی بھی اور مسلمان بھی۔ ان میں سے ہرگز وہ کا یہ خیال تھا کہ وہ دوسروں سے پہلے جنت میں داخل ہوگا۔ یہودیوں نے کہا کہ ہم موسیٰ کے پیرو ہیں جن کو خدا نے اپنی پیغمبری کے لئے چنا اور ان سے کلام کیا۔ عیسائیوں نے کہا کہ ہم عیسٰی کے پیرد ہیں جو اللہ کی روح اور اس کی حکمت تھے۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہم محمد خاتم الرسل کی امت ہیں اور ہم خیر امت ہیں جو لوگوں کے لئے نکالی گئی ہے۔ قرآن نے اس کا فیصلہ کیا اور مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے صاف طور پر کہاکہ ــــ نہ تمھاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر، جو شخص بھی برا کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔ اور وہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا حمایتی اور مددگار نہ پائے گا۔ اور جو کوئی بھی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔ (الننساء ۲۴ - ۱۲۳) ایک اثر میں ہے کہ ایمان نہ خوش خیالیوں کا نام ہے اور نہ ظاہری نمائشوں کا۔ بلکہ اس چیز کا نام ہے جو دل میں ہو اور عمل اس کی تصدیق کرے : كما ورد في الأثر ( ليس الايمان بالتمني ولا بالتخلي ولكن ما وقر في القلب وصدقه العمل ) . روی جماعة من المفسرين للقرآن الكريم أن جلسا ضم بعضا من اليهود والنصارى والمسلمين ، فزعمت كل طائفة منهم أنهم أولى الناس بدخول الجنة - اليهود قالوا نحن أتباع موسى الذي اصطفاه الله برسالته وبكلامه ، والنصارى قالوا نحن اتباع عيسى روح الله وحكمته - والمسلمون قالوا نحن اتباع محمد خاتم النبيين وخير أمة أخرجت للناس ، فجسم القرآن ذلك وخاطب المسلمين في صراحة ووضوح بقول الله تعالى : ليس بأمانيكم ولا أماني أهل الكتاب من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون الله وليا ولا نصيرا . ومن يعمل من الصالحات من ذكر وأنثى وهو مؤمن فأولئك يدخلون الجنة ولا يظلمون نقيرا ، النساء ١٢٣ و ١٢٤ ہر مذہب کے لوگوں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے مذہب کو دوسرے تمام مذاہب سے افضل ثابت کرتے ہیں اور پھر یہ یقین کر لیتے ہیں کہ ان کا مذہب چوں کہ سب سے افضل مذہب ہے اس لئے ان کو خدا کے یہاں سب سے افضل مقام حاصل ہوگا۔ اس قسم کا عقیدہ سراسر بے بنیاد عقیدہ ہے۔ مذاہب کے درمیان جو تقسیم ہے وہ صرف محفوظ اور غیر محفوظ کی ہے نہ کہ افضل اور غیر افضل کی۔ خدا کے یہاں ہر آدمی اپنے ذاتی عمل کے اعتبار سے جانچا جائے گا اور جو شخص اپنے عمل کے اعتبار سے جس درجہ کا ہوگا وہی درجہ اس کو ملے گا۔ درجہ بندی کا کوئی دوسرا معیار خدا کے یہاں نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader