سرکشی
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
سرکشی ایک صاحب کو اپنے ایک مسلمان بھائی سے شکایت ہو گئی۔ اس کے بعد وہ انتقامی جوش سے بھر گئے۔ انھوں نے اس مسلمان کے خلاف ہر ممکن کارروائی کرنا شروع کر دیا ــــــ اس کو دھوکا دینا، اس کو بدنام کرنا، اس کے خلاف جھوٹے مقدمے چلانا، غرض کمینگی کی کوئی قسم نہ تھی جس کو انھوں نے اپنے لیے جائز نہ کر لیا ہو۔ مذکورہ بزرگ سے کہا گیا کہ آپ ایک مسلمان کے خلاف ایسی غلط کارروائیاں کیوں کر رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ خود حدیث میں آیا ہے کہ الحرب خدعۃ (جنگ دھوکا ہے) اس قسم کا قول غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ یہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ نکالنا ہے جو خدا کے غضب کو بھڑکانے والے ہیں۔ کیوں کہ الحرب خدعۃ ان لوگوں کے لیے ہے جو ظالموں کے خلاف دفاع پر مجبور کر دیئے گئے ہوں نہ کہ ان لوگوں کے لیے جو خدا کی زمین میں فساد برپا کریں۔ جو کسی انسان کو ناحق ستانے کا منصوبہ بنائیں جو کسی کا حق غصب کر کے بیٹھ جائیں۔ جو خود ظالم ہوں نہ کہ مظلوم ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کچھ لوگ مختلف قسم کی سرکشی کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کے بارہ میں قرآن میں فرمایا گیا : سنکتب ما قتلوا (آل عمران ۱۸۱)، کلام سنکتب ما یقول (مریم ۷۹)، ہرگز نہیں، ہم لکھ لیں گے جو وہ کہتے ہیں۔ اور پھر قیامت کے دن ہم ان کو بتائیں گے ۔ جو لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں اور جو لوگ ان کی باتوں کو دل چسپی سے سنتے ہیں وہ اسی لیے ایسا کرتے ہیں کہ ان کے دل خدا کے خوف سے خالی ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ ان کا ہر لفظ خدائی رجسٹر میں درج کیا جا رہا ہے ۔ ان کو یقین نہیں کہ وہ اسی ہر بات کے لیے آخرت کی عدالت میں جواب دہ ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader