Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

قرآن میں تکرار

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں تکرار قرآن میں مضامین کی تکرار ہے۔ اللہ اگر چاہتا تو ہر لفظ میں ایک بالکل نئی بات کہتا۔ مگر ذہن سازی کی حکمت کے پیش نظر قرآن میں کچھ خاص مضامین بار بار دہرائے گئے ہیں۔ اس واقعہ کو قرآن کے مخالفین نے ایک شوشہ بنالیا اور اس کی بنا پر اس کا مذاق اڑانے لگے: وقالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملٰی علیہ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ پچھلوں کے قصے ہیں جن کو اس بکرۃ واصیلا (الفرقمان ۶) نے لکھ رکھا ہے۔ پس وہی لکھوائی جاتی ہیں اس کے پاس صبح و شام مولانا شبیر احمد عثمانی اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مکہ کے مخالفین اسلام کہتے تھے کہ "محمد نے اہل کتاب سے کچھ قصے کہانیاں سن کر نوٹ کرلی ہیں یا کسی سے نوٹ کرائی ہیں۔ وہی شب در روز ان کے سامنے پڑھی اور رٹی جاتی ہیں۔ نئے نئے اسلوب سے ان ہی باتوں کا الٹ پھیر رہتا ہے اور کچھ بھی نہیں" اس قسم کی باتیں وہی لوگ کہتے ہیں جو سچائی کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں۔ اگر وہ سنجیدگی کے ساتھ معاملہ کو سمجھیں تو انھیں معلوم ہو کہ جس چیز کو وہ تکرار کہہ رہے ہیں وہ ایک فطری ضرورت ہے ۔ دنیا میں کوئی ایسا آدمی نہیں جو تکرار" میں مبتلا نہ ہو۔ سگریٹ پینے والا ہر روز اسی سگریٹ کی تکرار کرتا ہے۔ چائے پینے والا ہر روز اسی چائے کی تکرار کرتا ہے۔ ماں یا باپ جب روزانہ اپنے بچہ کو پیار کرتے ہیں تو وہ اسی ایک چیز کی تکرار کرتے ہیں۔ ہر آدمی کی کوئی مرغوب چیز ہوتی ہے اور ہر روز وہ اسی کی تکرار کرتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود اس کو تکرار کا احساس نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تکرار آدمی کی فطرت ہے۔ البتہ جس چیز سے اسے دل چسپی ہو اس کی تکرار کرنے سے وہ نہیں اکتائے گا اور جس چیز سے اس کو دل چسپی کا تعلق نہ ہو اس کی تکرار اسے ناگوار معلوم ہوگی۔ قرآن چاہتا ہے کہ ربانی باتیں آدمی کو اس درجہ محبوب ہو جائیں کہ ان کے معاملہ میں تکرار کا احساس اس کے اندر ختم ہو جائے ۔ قرآن ایسے ہی انسان پیدا کرنا چاہتا ہے۔ قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے جس کے لئے قرآنی باتیں اتنی لذیذ بن جائیں کہ ان کی بار بار تکرار صرف اس کی لذت میں اضافہ کرے۔ وہ ان باتوں کے اعادہ سے اکتا ئیں بلکہ ان کو اپنے ذہن کی غذا بنائے۔ ہر تکرار میں اس کو نئی لذت ملے، فتر آنی مضامین کا ہر اعادہ اس کو از سر نو معانی کے سمندر میں غرق کر دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page