تزکیہ
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
تزکیہ قرآن میں پیغمبر کے دو خاص کام بتائے گئے ہیں۔__ تعلیم کتاب اور تزکیہ۔ تعلیم کتاب سے مراد دست قرآن کی تعلیم ہے۔ یعنی خدائی متن کو فرشتہ سے لے کر انسانوں تک پہنچانا۔ دوسری چیز تزکیہ ہے۔ تزکیہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں ایجوکیٹ کرنا یا باشعور بنانا کہا جاتا ہے۔ یعنی لوگوں کے فکر کو ربانی فکر بنانا۔ ان کی ذہنی تربیت کر کے انھیں اس قابل بنانا کہ وہ اس طرح سوچیں جس طرح خدا چاہتا ہے کہ سوچا جائے۔ اور اس طرح فیصلہ کریں جس طرح خدا چاہتا ہے کہ فیصلہ کیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں جو مسلم مصلحین اٹھے ان میں مشترک طور پر یہ بنیادی خامی پائی جاتی ہے کہ انھوں نے ”تزکیہ“ سے اپنے کام کا آغاز نہیں کیا۔ تقریباً ہر ایک کا یہ حال ہوا کہ مسلمانوں کے کچھ احوال اس کے سامنے آتے اور ان کو دیکھ کر وہ پرجوش طور پر اٹھ کھڑا ہوا۔ ذہن بنائے بغیر اس نے عملی اقدام شروع کر دیے۔ کسی نے انگریزی استعمار سے جبہ دکھیب کا آزادی کا نعرہ لگا دیا۔ کوئی مغربی تہذیب کے غلبہ کو دیکھ کر میدانِ عمل میں آگیا۔ کسی کو شردھانند“ کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے مجاہد اسلام بنا دیا۔ کوئی شدی سنگھٹن کی تحریک سے بے چین ہو کر سرگرم عمل ہو گیا۔ کسی کو مسلم خلافت کے زوال نے جان دینے پر آمادہ کر دیا۔ وغیرہ یہ سب کام کا غیر پیغمبرانہ طریقہ ہے۔ کام کا پیغمبرانہ طریقہ یہ ہے کہ اس کو تزکیہ سے شروع کیا جائے نہ کہ اقدام سے۔ تزکیہ کا ایک مطلب یہ ہے کہ افراد کو دین کا صحیح علم حاصل ہو جائے۔ وہ صحیح دینی انداز میں سوچنا جان لیں۔ ان کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو جائے کہ وہ غیر اسلامی نقطہ نظر کے مقابلے میں اسلامی نقطہ نظر کو پہچان سکیں۔ وہ مختلف قسم کے حالات میں یہ فیصلہ کر سکیں کہ کس وقت انھیں کیا کرنا ہے اور کس وقت انھیں کیا نہیں کرنا ہے۔ تزکیہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ افراد کے اندر زمانہ شناسی کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ وہ جان لیں کہ دنیا کے حالات کیا ہیں اور ان حالات میں دین کو کس طرح منطبق کیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader