وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہیں اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ اطۡمَاَنُّوۡا بِہَا وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ٭ اُولٰٓئِکَ مَأۡوَاہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ٭ اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَہۡدِیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِاِیۡمَانِہِمۡ ۚ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمُ الَانۡہٰرُ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ (یونس ۹-۶) جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور وہ دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہیں اور اس میں جی لگائے ہیں، اور جو ہماری نشانیوں سے بے پروا ہیں، ایسے لوگوں کا ٹھکانا آگ ہے ان کے اعمال کی درجہ سے۔ جو لوگ یقین لائے اور نیک کام کیا ان کا رب ان کے ایمان کی درجہ سے ان کو راہ دے گا جنت کی، ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی آرام کے باغوں میں۔ انسانوں کی ایک قسم وہ ہے جن کو دنیا کی چیزیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ پیسہ کے فریب میں ہوتے ہیں۔ ان کو نظر آتا ہے کہ پیسہ سب کچھ ہے، اس لئے وہ پیسہ کمانے اور اس کے مسائل سے نمٹنے میں محو رہتے ہیں۔ کچھ لوگ شہرت و عزت کے فریب میں ہوتے ہیں۔ ان کی دل چسپیوں کا مرکز محور وہ چیزیں بن جاتی ہیں جن سے ان کی اپچ بڑھے، اجرا سے ان کی عوامی تصویر میں اضافہ ہو۔ کچھ لوگ اقتدار کے فریب میں ہوتے ہیں۔ ان کی توجہ اپنے اقتدار کے مسائل میں لگی رہتی ہے۔ یہ تمام لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اتنا گم ہوجاتے ہیں کہ ان کے ذہن وفکر کی تمام طاقتیں اسی پر لگ جاتی ہیں۔ وہ انھیں چیزوں کے اندر جینے لگتے ہیں۔ ان کو دنیا میں جو کچھ مل رہا ہے، اسی پر وہ راضی اور مطمئن ہوجاتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنی کیفیت ان کو آخرت کی طرف سے غافل کر دیتی ہے۔ ان کی زندگی ایسی بن جاتی ہے جیسے انھیں اللہ سے ملاقات کا کھٹکا ہی نہ ہو، جیسے نہ اس اندیشہ سے خالی ہو گئے ہوں کہ ہار اور جیت، کامیابی اور ناکامی کا اصل فیصلہ اللہ کے یہاں ہونے والا ہے۔ ان کی غفلت یہاں تک بڑھتی ہے کہ خدا کے دلائل ان کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں مگر وہ بے پروائی کے ساتھ ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ دنیا میں ان کے معاملات کا درست ہونا ان کو اس غلط فہمی میں ڈال دیتا ہے کہ کسی دلیل اور ثبوت پر ان کو دھیان دینے کی ضرورت نہیں۔ خدا کی بات لفظوں یا خاموش اشاروں کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں مال و جائیداد، عزت و شہرت اور عہدہ و اقتدار ایسی مادی صورتوں میں ہوتے ہیں جن کے مزے کو وہ چکھ رہے ہوں، جن کی اہمیت کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ "حقیراً کو چھوڑ کر "بڑی چیز کو لے رہے ہیں۔ مگر حقیقتاً وہ جنت کو چھوڑ کر جہنم کو لے رہے ہوتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں ان کی مدہوشی ان کو یہ بات سمجھنے نہیں دیتی۔ مگر مرنے کے بعد جب وہ اپنے سامنے جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھیں گے، اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ دنیا میں وہ جو کچھ کر رہے تھے اس کی حقیقت آخرت کے اعتبار سے کیا تھی۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جو خدا پر اس وقت سے پہلے یقین لے آتے ہیں کہ وہ اپنی طاقتوں اور عظمتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ ان کا یہ یقین ان کو صحیح اور درست رویہ پر قائم رکھتا ہے۔ وہ اپنی کوششوں اور سرگرمیوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader