Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

حقیقی دین داری کیا ہے ؟

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

قل لا يستوى الخبيث والطيب ولو اعجبك كثرة الخبيثة ة تاتقوا الله يا ولى الالـباب لعلكم تفلحون (مائده (١٠٠) کہہ دو، ناپاک اور پاک برابر نہیں ہو سکتے۔ اگرچہ ناپاک کی کثرت تم کو خوش لگے۔ اے عقل والو اللہ سے ڈرو تا کہ تم کامیاب ہو۔ غیر خدائی بنیادوں پر بظاہر کتنی ہی شان دار ترقی حاصل کرلی جائے دہ بے حقیقت ہے۔ کیوں کہ بالآخر ایسی تمام ترقیاں ڈہ جائیں گی اور وہی انسان کامیاب انسان ہوگا جو خدائی بنیادوں پر کھڑا ہوا ہو۔ دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص حقیقی اوصاف رکھنے کے باوجود لوگوں کی نظر میں حقیر بن جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ دنیوی زور ور کو اپنے گرد جمع نہ کر سکا۔ اسی طرح کچھ لوگ حقیقی اوصاف نہ رکھتے ہوئے بھی عزت اور خوش حالی اور اقتدار کے مالک بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ انھوں نے دنیوی اہمیت کی چیزوں، مثلاً دولت، عہدہ، اعوان و انصار کو اپنی پشت پر اکٹھا کر لیا تھا۔ تاہم ایک طیب ہے اور دوسرا خبیث اور رذیلت اور طيب دونوں یکساں نہیں ہو سکتے۔ موجودہ مصنوعی صورت حال صرف اس لئے ہے کہ زمین کے مالک نے لوگوں کو آزاد چھوڑ رکھا ہے۔ مگر یہ صورت حال یقینی طور پر عارضی ہے۔ جلد ہی ایسا ہوگا کہ زمین کا مالک اپنے جلال و کمال کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ اس وقت تمام لوگ اپنے اپنے حقیقی مقام پر آجائیں گے۔ مالکِ کائنات کے ظاہر ہوتے ہی تمام مصنوعی عظمتیں اچانک مٹ جائیں گی۔ ہر آدمی اس اصل مقام پر پہنچ جائے گا جو فی الواقع اس کا مقام ہے۔ اس وقت کتنے لوگ، جو دنیا میں شہرت اور عزت کی جنتوں میں بس رہے تھے ، اپنے آپ کو ذلت اور ناکامی کے جہنم میں جتا ہوا پائیں گے۔ کیوں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ اسی مقام پر تھے۔ اور کتنے لوگ جو مسکینی اور بے بسی کے جہنم میں گرفتار دکھائی دیتے تھے ، ہر قسم کی عورتوں اور ترقیوں کی بہشت میں باغ باغ ہورہے ہوں گے۔ کیوں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ جس مقام پر تھے وہ یہی تھا۔ اللہ کا خوف آدمی کو آنے والے وقت سے پہلے اُس حقیقت کا واقعہ کا احساس کرا دیتا ہے جس کو بے خوف انسان صرف اس وقت جانے گا جب کہ وہ اس سے دوچار ہو چکا ہوگا۔ جب حقیقت واقعہ یہ ہے کہ اس دنیا کا مالک اللہ ہے تو عزت اسی کو حاصل ہوگی جس کو خدا عزت دے اور ذلت اس کے لئے ہوگی جس کو خدا ذلیل کرے یہ احساس جس کے دل میں بیٹھ جائے اس کو دنیا کی تمام شان وشوکت حقیر معلوم ہونے لگتی ہے۔ وہ اقتدار کی گدی پر بیٹھ کر بھی اپنے کو بے زر پاتا ہے۔ وہ دولت کے انبار کو پا کر بھی اپنے کو محتاج سمجھتا ہے۔ وہ مکمل معنوں میں حقیقت پسند بن جاتا ہے وہ ہر چیز کو اس شکل میں دیکھنے لگتا ہے جیسی کہ وہ حقیقت ہے ۔ یہ اہلِ تقویٰ کی کامیابی کا وہ پہلو ہے جو اخروی اعتبار سے ہے۔ وہ حساب کا دن آنے سے پہلے اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page