Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

توبہ وہی ہے جو سنجیدہ فیصلہ بن جائے

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

توبہ وہی ہے جو سنجیدہ فیصلہ بن جائے إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ە وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ٥ وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ ە أُولَئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ٥ (نساء ۱۷-۱۸) اللہ ضرور ان کی توبہ قبول کرتا ہے جو نادانی سے برا کر بیٹھتے ہیں پھر جلدی ہی توبہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اللہ توجہ فرماتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے ، حکمت والا ہے۔ اور ان لوگوں کی توبہ نہیں جو برائی کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب اُن میں سے کسی کے سامنے موت آجاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔ اور نہ ان لوگوں کی توبہ جن کو حالت کفر پر موت آتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ توبہ کے اصل معنی متوجہ ہونے کے ہیں۔ آدمی سے کوئی برائی ہو جائے اور پھر اللہ کے سامنے حاضری کا احساس اس کے اندر شدید ندامت کا جذبہ پیدا کرے ۔ وہ بیٹایا بانہ طور پر چاہنے لگے کہ دوبارہ اس سے ایسی برائی سرزد نہ ہو۔ تو اس کو شریعت میں توبہ کہتے ہیں۔ قرآن کے مطابق مطلوب توبہ وہ ہے جو توبہ نصوح ہو۔ نصوح کے معنیٰ خالص۔ عربی میں کہتے ہیں نَصَحَ العَسَلُ یعنی شہد کو صاف کر کے اصلی شہد بنایا۔ تو بہ نصوح وہ توبہ ہے جو سچی تو بہ ہو جو سنجیدہ فیصلے کے تحت پیدا ہوئی ہو۔ حدیث میں آیا ہے : الندم توبة ( اخرجہ احمد وابن ماجہ عن عبد اللہ بن مسعود مرفوعاً) اس سے معلوم ہوا کہ توبہ کی اصل ندامت و شرمندگی ہے۔ شرمندگی کا احساس جتنا شدید ہوگا، آدمی کی تو بہ اتنی ہی سچی اور خالص ہوگی۔ جب آدمی غلطی کر کے تڑپ اُٹھے اور خدا کے یہاں باز پرس کا احساس اس کو بے چین کردے تو اس کی توبہ محض چند الفاظ کو زبان سے بول دینا نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کی پوری ہستی کے لئے ایک نئی زندگی کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ وہ احساس گناہ سے شدید طور پر شرمندہ ہوتا ہے، وہ بے تابانۂ اللہ سے معافی مانگتا ہے۔ وہ عزم کرتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسا نہ کرے گا۔ وہ فورا اپنی اصلاح میں لگ جاتا ہے ۔ وہ اپنی کو تاہیوں کی تلافی کرتا ہے۔ جو حقوق پامال ہوئے تھے ان کی ادائیگی کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اس کی ساری توجہ اس ایک سوال پر لگ جاتی ہے کہ وہ کس طرح اپنے آپ کو سابقہ غلطیوں سے مکمل طور پر پاک کر ڈالے۔ امام حسن بصری نے فرمایا: التوبة النصوح ان تبغض الذنب كما احببته وتستغفر منه اذا ذكرته یعنی سچی توبہ یہ ہے کہ برائی سے تم کو نفرت ہو جائے جس طرح اس سے پہلے اس سے محبت تھی اور جب برائی یاد آ جائے تو اللہ سے اس کے لئے مغفرت مانگو (ابن کثیر) تو بہ کا سب سے نازک امتحان وہ ہے جب کہ ایک آدمی کو دوسرے سے شکایت ہو جائے اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page