وہ آدمی جو اپنے رب پر راضی رہا
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ آدمی جو اپنے رب پر راضی رہا انسان کو جب اس کا رب آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو انسان کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو سرفراز کیا۔ اور جب اس کو دوسری طرح آزماتا ہے اور اس کی روزی اس پر تنگ کر دیتا ہے تو انسان کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھ کو بے قدر کر دیا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے۔ اور محتاج کو کھانا کھلانے کی تاکید نہیں کرتے۔ اور مردہ کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ اور مال سے بے حد محبت رکھتے ہو۔ ہرگز نہیں، جب زمین توڑ کر ریزہ ریزہ کر دی جائے گی۔ اور آئے گا تیرا رب اور فرشتے آئیں گے قطار در قطار۔ اس دن جہنم سامنے لائی جائے گی۔ اس دن آدمی سوچے گا۔ مگر اب سوچنے کا موقع کہاں۔ وہ کہے گا۔ کاش میں نے اپنی زندگی کے لئے کچھ بھیج دیا ہوتا۔ اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔ اے اطمینان والی روح چل اپنے رب کی طرف۔ تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ پھل جائیے بندوں میں اور داخل ہو جامیری جنت میں۔ (الفجر) دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا ردیہ جہنم کو یاد کر کے بنے۔ دوسرے وہ جن کا رویہ جہنم سے بے خوف ہو کر بنے۔ کون جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈر کر جی رہا ہے اور کون اس سے بے پروا ہو کر جی رہا ہے، اس کا اظہار زندگی کے معاملات میں ہوتا رہتا ہے۔ ہر بار جب زندگی کے مواقع میں سے کوئی موقع پیش آتا ہے تو آدمی اپنے رد عمل سے بتا دیتا ہے کہ دونوں میں سے کون سی حالت ہے جس میں اس کے صبح و شام گزر رہے ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو عزت اور دولت ملتی ہے تو ان کے اندر اپنی بڑائی کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے۔ اس کے برعکس اگر انھیں تنگی اور سختی پیش آجائے تو وہ احساس کمتری کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک ساری اہمیت دنیا کی عزت اور بے عزتی کی ہے، وہ دنیا کے آرام اور تکلیف کو سب سے زیادہ قابل توجہ سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا سابقہ جب کمزور سے پیش آتا ہے تو اس کے ساتھ حقارت کا سلوک کرتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے پاس وہ چیز نہیں جہان کی نظروں میں لحاظ کے قابل ہے۔ ان کے سامنے کوئی ضرورت مند آجاۓ تو اس کی ضرورت پوری کرنے کا جذبہ ان کے اندر نہیں بھڑکتا ان کو دنیوی مال و متاع کی اتنی حرص ہوتی ہے کہ اخلاقی حدوں کو توڑ کر اور حرام و حلال کی تمیز سے آزاد ہو کر اس کو سمیٹنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ وہ اس قدر سخت دل ہو جاتے ہیں کہ کوئی شخص جو بزور اپنا حصہ وصول کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ ان سے اپنا حصہ پانے کی امید نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader