اللہ کا نام لے کر حق کے سوا نہ کہو
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ کا نام لے کر حق کے سوا نہ کہو حضرت موسیٰ علیہ السلام ساڑھے تین ہزار سال پہلے مصر میں آئے۔ اس وقت بنی اسرائیل (یہود) مصر میں آباد تھے۔ مصری مشرک قوموں کے ساتھ رہتے رہتے بنی اسرائیل میں بھی مشرکانہ طریقے سرایت کر گئے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جاؤ اور وہاں آزادانہ ماحول میں ان کی تعلیم و تربیت کرو۔ قرآن کی ساتویں سورہ (اعراف) میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ فرعون کے دربار میں گئے اور اس سے کہا کہ میں رب العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔ لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے۔ اس کے بعد آپ نے اپنی پیغمبری کے ثبوت میں کچھ معجزے دکھائے۔ اس سلسلہ میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ معجزات دیکھنے کے بعد فرعون کے درباری مبہوت ہو گئے۔ انھوں نے کہا: یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم کو تمھاری زمین سے نکال دے (اعراف ۱۰۴) اس آیت پر حاشیہ لکھتے ہوئے موجودہ زمانہ کے ایک انقلابی مفسر اپنی تفسیر کی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں: ”یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک غلام قوم کا ایک بے سروسامان آدمی یکایک اٹھ کر فرعون جیسے بادشاہ کے دربار میں جا کھڑا ہوتا ہے جو شام سے لیبیا تک اور بحر روم کے ساحل سے حبش تک کے عظیم الشان ملک کا نہ صرف مطلق العنان بادشاہ بلکہ معبود بنا ہوا تھا تو محض اس کے اس فضل سے اتنی بڑی سلطنت کو یہ خطرہ کیسے لاحق ہو جاتا ہے کہ یہ اکیلا انسان سلطنت مصر کا تختہ الٹ دے گا اور شاہی خاندان کو حکمراں طبقہ سمیت ملک کے اقتدار سے بے دخل کر دے گا۔ پھر یہ سیاسی انقلاب کا خطرہ آخر پیدا بھی کیوں ہو جب کہ اس شخص نے صرف نبوت کا دعویٰ اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ ہی پیش کیا تھا اور کسی قسم کی سیاسی گفتگو سرے سے چھیڑی ہی نہ تھی۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا دعوائے نبوت اپنے اندر خود ہی یہ معنی رکھتا تھا کہ یہ شخص پورے نظام زندگی کو بحیثیت مجموعی تبدیل کرنا چاہتا ہے جس میں لامحالہ ملک کا سیاسی نظام بھی شامل ہے۔ کسی شخص کا اپنے آپ کو رب العالمین کے نمائندہ کی حیثیت سے پیش کرنا لازمی طور پر اس بات کو متضمن ہے کہ وہ انسانوں سے اپنی کلی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے۔ کیونکہ رب العالمین کا نمائندہ کبھی مطیع اور رعیت بن کر رہنے کے لئے نہیں آتا بلکہ مطاع اور راعی بننے ہی کے لئے آ یا کرتا ہے اور کسی کا فر کے حق حکمرانی کو تسلیم کر لینا اس کی حیثیت رسالت کے قطعا منافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی زبان سے رسالت کا دعویٰ سنتے ہی فرعون اور اس کے ایوان سلطنت کے سامنے سیاسی و معاشی اور تمدنی انقلاب کا خطرہ نمودار ہو گیا “ تبصرہ سورہ اعراف (آیت ۱۰۳ تا ص ۱۳) کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ پوری تفسیر مصنف کا اپنا ذہنی تخیل ہے۔ قرآن کی متعلقہ آیات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader