عمل باطل
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
کمرے سے والدہ کی آواز آنے لگی۔ آواز ہو بہو والدہ مرحومہ کی تھی۔ میں حیران ہو کر اٹھا اور کمرہ میں گیا تو معلوم ہوا کہ وہاں والدہ مرحومہ کا ٹیپ بجایا جا رہا ہے۔ میرے بچوں نے ایک سال پہلے والدہ مرحومہ کی ۴۵ منٹ کی ایک گفتگو ٹیپ ریکا ر ڈر پر ریکارڈ کر لی تھی۔ اس میں والدہ میرے بچوں کے ساتھ بات کرتی ہوئی اور ہنستی بولتی ہوئی سنائی دے رہی ہیں ۔ میں بچوں کے ساتھ بیٹھ کر والدہ کا ٹیپ سننے لگا۔ میں سنتا جا رہا تھا اور میرے اوپر عجیب حالت طاری ہو رہی تھی۔ جس شخصیت کو میں ۸ اکتوبر کو خود اپنے ہاتھ سے قبر میں دفن کر چکا تھا، عین اسی شخصیت کی آواز ۲۵ اکتوبر کو بجنسہ اسی شکل میں سن رہا تھا۔ وہی لہجہ، وہی زبان، وہی انداز، غرض سب کچھ اس قدر مطابق اصل تھا جیسے کہ مرحومہ کمرہ میں بیٹھی ہوئی ہیں اور میں پہلے کی طرح ان کی اپنی آواز کو سن رہا ہوں جیسا کہ ان کی زندگی میں سنتا تھا۔ اس تجربہ نے ایک آیت کا مطلب میرے ذہن پر کھول دیا۔ سورہ الذاریات میں ان لوگوں کا جواب دیا گیا ہے جو بحث بعد الموت کے بارہ میں شبہ ظاہر کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں فرمایا گیا ہے کہ بے شک وہ یقینی ہے، اسی طرح جس طرح تم بولتے ہو۔ یہاں آیت کے الفاظ یہ ہیں : وفی السماء رزقكم وما توعدون فوردب اور آسمان میں تمہاری روزی ہے اور وہ بھی جس کا تم السماء والارض انه لحق مثل ما انکم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ پس آسمان اور زمین کے تنطقون (الذاريات ۲۲ - ۲۳) رب کی قسم، بے شک وہ برحق ہے اسی طرح جیسے کہ تم بولتے ہو۔ اس آیت کی تفسیر میں عام طور پر مفسرین بس اتنا کہہ کر گزر جاتے ہیں کہ وہ تمہارے نطق کی طرح برحق اور یقینی ہے (ای حق مثل نطقمہ ، تفسیر النسفی) میں نے اکثر تفسیروں میں اس آیت کا مطلب تلاش کیا مگر اس کی تشریح میں اس سے زیادہ اور کچھ نہ مل سکا۔ مگر ۲۵ اکتوبر کی رات کو والدہ مرحومہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader