نجات
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا وہ بدکے ہوئے جانور ہیں، جو واپس آنا نہیں جانتے ـــــــ فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ 0 كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ 0 فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ 0 بَلْ يُرِيدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ يُؤْتٰى صُحُفًا مُنَشَّرَةً 0 كَلَّا بَلْ لَّا يَخَافُونَ الْاٰخِرَةَ 0 كَلَّا اِنَّهُ تَذْكِرَةٌ 0 فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ 0 (مدثر، آخم) ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے منھ پھیرتے ہیں۔ جیسے کہ دہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شور سن کر بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے ورق دئے جائیں۔ ہر گز نہیں۔ بلکہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔ ہرگز نہیں، یہ تو یہ ایک نصیحت ہے۔ پھر جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔ اللہ اپنے دین کی پیغام بری کے لئے ہمیشہ ایسے شخص کو چنتا ہے جس کے جاننے والے اس کو ایک پسندیدہ شخص کی حیثیت سے جانتے ہوں، جس کی صلاحیت اور صالحیت کی وجہ سے اس کے لوگوں نے اس کے بارے میں اونچی اونچی امیدیں باندھ رکھی ہوں (ہود ۶۲) مگر جب وہ حق کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو اچانک لوگ اس سے بدک جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی دعوت بے آمیز حق کی دعوت ہوتی ہے اور بے آمیز حق انسان کے لئے ہمیشہ سب سے زیادہ مبغوض چیز رہتا ہے۔ پیغمبر کی بے آمیز دعوت ان تمام لوگوں کو متوحش کر دیتی ہے جو مولودی دین یا خود ساختہ مذہب کے اوپر اپنی زندگی کی تعمیر کئے ہوئے تھے۔ انسان کی گمراہی کبھی یہ نہیں رہی ہے کہ وہ ناحق کا علم بردار بن کر کھڑا ہوا ہو۔ انسان کی گمراہی یہ ہے کہ وہ حق کے ساتھ ناحق کو ملائے ہوئے ہو۔ وہ حق کا نام لے مگر اسی کے ساتھ۔ اپنی عقیدتوں اور وفاداریوں کو اس نے ناحق کے لئے خاص کر رکھا ہو۔ پیغمبر کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر ایک کو اس میں اپنا حقیقی چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔ ہر ایک کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کے اس نازک مقام پر ضرب لگا رہی ہے جہاں وہ حقیقۃً جی رہا تھا ــــــــ کسی کو اپنی شخصیت کا بت گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ کسی کو اپنے دلائل کا غبارہ ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ کسی کو اپنی شان وشوکت بے رونق ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ کسی کو ایسا لگتا ہے کہ اگر اس نے اس حق کو مان لیا تو اس کو اپنے بنے بنائے ڈھانچے کو اجاڑ دینا پڑے گا۔ ان وجوہ سے لوگ اس کی آواز سے اس طرح بدک جاتے ہیں جیسے کوئی تصورِی شیر اچانک زندہ ہو کر کھڑا ہو جائے اور لوگ اس کے مہیب وجود کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوں۔ تاہم بدکے ہوئے لوگ اپنے کو برسر حق ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں: سچائی کے اعلان کے لئے کیا اسی معمولی شخص کا انتخاب کیا جانا تھا، اس کے بجائے ان "اکابر" کا انتخاب کیوں نہ کیا گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader