فہم قرآن
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
فہم قرآن فی صحیح البخاری من روایۃ ابی جحیفہ وہب بن عبد الله السوائی - قال قلت لعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ - هل عندكم شي من الوحی ممالیس فی القرآن - فقال لاوالذی فلق الحبة وبرأ النسمة الا فهماً يعطيه الله رجلاً فى القرآن (تفسير ابن كثير، الجزء الثانی ، صفحه ۷۸ ) وہب بن عبد الله تابعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ابن ابی طالب سے پوچھا۔ کیا آپ کے پاس وحی الہی میں سے کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں نہیں ہے۔ انھوں نے جواب دیا اس ذات کی قسم جس نے دانہ کو پھاڑا اور جاندار کو وجود بخشا ، ہمارے پاس کوئی مزید چیز نہیں سوا اس فہم کے جو اللہ ایک شخص کو قرآن میں عطا کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہو کہ قرآن میں ظاہری الفاظ کے سوا یہی ایک چیز ہے اور وہ اس کی گہری معنویت کا ادراک ہے ، گویا ایک الفاظ قرآن ہے اور دوسرا فہم قرآن۔ قرآن کا لفظی حصہ اس کے ظاہری مطالعہ سے حاصل ہو جاتا ہے۔ مگر اس کے معنوی حصہ کو پانے کے لئے غور و فکر ضروری ہے۔ گہرے تدبر کے بغیر کوئی شخص قرآن کے گہرے معانی کو نہیں جان سکتا۔ قرآن کے ظاہری پہلو کو جاننے کے لئے عربی دانی کی ضرورت ہے اور قرآن کے معنوی پہلو کو جاننے کے لئے خدا دانی کی۔ اگر آدمی کو عصر بی زبان سے واقفیت ہو تو وہ قرآن کو پڑھ کر اس کے ظاہری مفہوم کو سمجھ لے گا مگر قرآن کی معنوی گہرائیوں کو وہی شخص پاسکتا ہے جو خدا کی چھپی ہوئی تجلیات سے اپنی آنکھوں کو روشن کر چکا ہو۔ دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ایک قرآن وہ ہے جو آدمی کو لکھی ہوئی کتاب کی صورت میں مل جاتا ہے۔ اور دوسرا قرآن وہ ہے جسے اس کو خود دریافت کرنا ہے۔ ایک قرآن وہ ہے جو آیتوں کا ترجمہ جاننے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ دوسرا قرآن وہ ہے جسے جس کو خود اپنی کوششوں سے پا نا پڑتا ہے۔ آدمی اگر صرف ’’پہلے قرآن‘‘ کو پائے تو قرآن سے اس کا تعلق اوپری انداز کا ہو گا۔ وہ بے روح طور پر اس کو مانتا رہے گا۔ مگر جو شخص ’’دوسرے قرآن‘‘ کو پالے اس کو قرآن سے زندہ تعلق ہو جاتا ہے۔ قرآن اس کے لئے حرکت اور یقین کا سر چشمہ بن جاتا ہے۔ قرآن اس کے لئے ایک ایسی چیز بن جاتا ہے جس میں وہ جئے ، جس سے وہ اپنے لئے غذا حاصل کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader