ذرہ برابر نیکی
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
کے کم اچھے اعمال کو ان کے زیادہ اچھے اعمال کے تابع کر دیا جائے گا اور ان کا جو بہتر سے بہتر عمل ہوگا اس کے مطابق ان کو انعام دیا جائے گا۔ (نحل، (۹) دوسرے لوگ وہ ہیں جنہوں نے خدا کے معاملہ میں حقیقت واقعہ کا اعتراف تو کیا مگر ان کا اعتراف اتنا گہرا نہ تھا جوان کی عملی زندگی پر چھایا جاتا۔ انہوں نے کچھ اچھے عمل کئے اور اسی کے ساتھ بہت سے برے عمل بھی ان سے سرزد ہوتے۔ ایسے لوگوں کے اچھے عمل میں اگر اللہ تعالیٰ واقعی خیر" دیکھے گا تو امید ہے کہ ان کے برے اعمال کو ان کے اچھے اعمال کے تابع کر دے۔ وہ ان کے برے اعمال کو نظر انداز کر دے۔ اور ان کو وہ بدلہ دیدے جس کے وہ اپنے بعض اچھے اعمال کے اعتبار سے مستحق تھے (توبہ (۱۰۲) اللہ کے معاملہ میں کسی شخص کے اندر خیر کا ذرہ پایا جانا یہ ہے کہ وہ چیز اس کے اندر کم مقدار میں پائی جارہی ہو جس کی زیادہ مقدار کسی کو حقیقی معنوں میں صالح العمل بتاتی ہے ۔ وہ ذرہ یہ ہے کہ خدا کی عظمت کو سوچ کر کبھی اس کا دل تڑپ اٹھا ہو۔ خدا کی کبریائی کے تصور سے کبھی اس کے اوپر کپکپی طاری ہوئی ہو۔ اس پر کوئی ایسا لمحہ گزرا ہو جب کہ خدا کی بڑائی کے خیال نے اس سے اپنی بڑائی کے تمام احساسات چھین لئے ہوں۔ زندگی کے کسی موڑ پر اس نے اس ربانی کیفیت کا تجربہ کیا ہو جو خدا کو اپنا خدا بنا کر اور اپنے آپ کو عبد کا مقام دے کر آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے اسی طرح بندوں کے معاملہ میں خیر کا ذرہ وہ ہے جس کو حدیث میں عمل کا آخری درجہ کہا گیا ہے ۔ یعنی دوسروں کو اپنے شر سے محفوظ رکھنا۔ آدمی اگر دوسروں کو فائدہ نہ پہنچائے تو کم سے کم درجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی ذات سے کسی کو تکلیف یا نقصان نہ پہنچے۔ اگر آدمی نے دوسروں کو اپنے شر سے بچایا ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں خیر کا ذرہ شمار ہوگا اور وہ اس کو جہنم کی آگ سے بچانے کا ذریعہ بن، جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader