کائناتی نشانیاں
Urdu book, p. 233
By Maulana Wahiduddin Khan
عن ابی ذر قال ترکنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم وما طائر یقلب جناحیه فی الهواء الا وهو یذکر لنا منه علما (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثانی ، صفحہ ۴۰۴) قال الدارانی انی لاخرج من منزلی فما یقع بصری علی شئ الا رأیت لله علیه نعمة ولی فیه عبرة (تفسیر ابن کثیر) عن جابر رضی الله عنه قال خرج علینا رسول الله صلی الله علیه وسلم فقال، یا ایہا الناس ان لله سرایا من الملائكة تحل وتقف علی مجالس الذکر فی الارض فارتعوا فی ریاض الجنة ۔ فقالوا واین ریاض الجنة ، قال مجالس الذکر۔ فاعد وا او روحوا فی ذکر الله واذکروه بانفسکم ۔ من کان یحب ان یعلم منزلته عند الله فلینظر کیف منزلة الله عنده فان الله ینزل العبد منه حیث انزله من نفسه ( البیهقی) رہتا ہے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔ حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا اور آپ کا حال یہ تھا کہ اگر ایک پریا بھی فضا میں اپنے پر ہلاتی تھی تو اس سے آپ ہم کو کسی علم کی یاد دہانی کراتے تھے۔ حضرت دارانی کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر سے نکلتا ہوں تو جس چیز پر بھی میری نگاہ پڑتی ہے۔ مجھے اس میں خدا کی کوئی نعمت نظر آتی ہے اور اس میں میرے لئے کوئی عبرت ہوتی ہے۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! اللہ کے لئے فرشتوں کی جماعت ہے جو زمین پر ہونے والی ذکر کی مجلسوں میں آتی ہے اور ٹھہرتی ہے۔ لہٰذا تم جنت کے باغوں میں چر و۔ لوگوں نے کہا کہ جنت کے باغ کہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ذکر کی مجلسیں ہیں لہذا تم اللہ کی یاد میں صبح کرو یا اللہ کی یاد میں شام کرو۔ اور اللہ کو اپنے جی میں یاد کرو۔ جس آدمی کو پسند ہو کہ اللہ کے پاس اپنے مرتبہ کو جانے اس کو چاہئے کہ یہ دیکھے کہ اللہ کا مرتبہ اس کے پاس کیا ہے۔ کیونکہ اللہ بندہ کو اپنے یہاں وہی درجہ دیتا ہے جو درجہ بندہ نے اپنے یہاں اللہ کو دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader