کالی آگ
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
کالی آگ عن ابی هریرة عن النبی صلی الله عليه وسلم ابو هریره رضی الله عنه کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله عليه قال أُوقِدَ على النارِ ألفَ سنةٍ حتّى احمرَّت وسلّم نے فرمایا: جہنم کی آگ کو ہزار سال تک دہکایا ثم أُوقِدَ عليها ألفَ سنةٍ حتّى ابیضَّت گیا تو وہ لال ہوگئی۔ اس کے بعد پھر اس کو ہزار سال ثم أُوقِدَ عليها ألفَ سنةٍ حتّى اسودَّت تک دہکایا گیا تو وہ سفید ہوگئی۔ پھر اس کو ہزار نهی سوداء مظلمة سال تک دہکایا گیا تو وہ کالی ہوگئی۔ اب وہ (الترمذی) گہری کالی ہے۔ جہنم کی آگ حقیقت کیا ہے اور کس طرح بھڑکتے بھڑکتے کالی ہوگئی ہے اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ مگر آگ کا کالا ہو جانا آج کے انسان کے لیے نا قابل فہم نہیں رہا۔ آج کے علم الافلاک نے بتایا ہے کہ کائنات میں آگ کی ایسی دنیائیں ہیں جو اپنی شدت کے آخری مرحلے میں پہونچ کر کالی ہوگئ ہیں "کالی آگ، آج کے انسان کے لیے ایک معلوم چیز ہے اور اس کو جدید اصطلاح میں کالا غار (Black hole) کہا جاتا ہے۔ فلکیاتی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بہت بعید فاصلوں پر کائنات میں انتہائی بڑے بڑے ستارے راگ کے گولے، ہیں ۔ وہ اتنے بڑے ہیں کہ کہکشاں کے مقابلہ میں سوگنا زیادہ انرجی خارج کرتے ہیں جب کہ ایک کہکشاں میں کھرب ہا کھرب ستارے ہوتے ہیں۔ ابتدا یہ ستارے اسی طرح "روشن" دکھائی دیتے تھے جیسے دوسرے ستارے۔ نظریہ یہ ہے کہ اپنی بڑھی ہوئی قوت کشش کی وجہ سے ان ستاروں نے اپنے مادہ کو اندر کی طرف کھینچنا شروع کیا۔ اس کے نتیجہ میں ستارہ سکڑتا گیا اور جتنا سکڑتا گیا اتنا ہی اس کی قوت اور زیادہ بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ اس کی قوت اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ روشنی بھی اس سے خارج نہیں ہوسکتی تھی۔ اس طرح انتہائی روشن ہونے کے باوجود اب وہ ہماری نظر کے لیے بالکل تاریک ہو گیا ہے۔ کیوں کہ آدمی اپنی موجودہ آنکھوں سے کسی ایسی ہی چیز کو دیکھ سکتا ہے جس کی روشنی اس کی آنکھوں تک پہونچ رہی ہو۔ غیبی چیزوں کا حقیقی علم انسان کو صرف اگلی دنیا میں ہو سکے گا۔ مگر اللہ تعالی نے موجودہ دنیا میں بھی ایسی چیزیں رکھ دی ہیں جو غیبی حقیقتوں کو ہمارے لیے قابل فہم بنا سکیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader