ایک آیت
Urdu book, p. 283
By Maulana Wahiduddin Khan
انہیں سوالات کی موجودگی میں دوسری باتوں کو مان لیتے ہیں اور ان کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نظام چلاتے ہیں۔ پھر اسی قسم کی کم تر واقفیت کی بنا پر قیامت کے بارے میں کیوں شبہ کیا جانے لگے۔ اور اللہ ہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے (ويعلم ما في الارحام)، اس آیت کی تفسیر عام طور پر یہ مشہور ہو گئی ہے کہ یہ خدا ہی کے علم میں ہے کہ حاملہ عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی۔ مگر آیت کے الفاظ میں اس تفسیر کی کوئی بنیاد موجود نہیں ۔ آیت کے الفاظ بالکل عام ہیں : رحم کے اندر کیا ہے، یہ خدا ہی کو مسلم ہے۔“ ان الفاظ میں ہر وہ بات آسکتی ہے جو پیدا ہونے والے کی زندگی اور مستقبل سے متعلق ہو۔ یہاں ایسا کوئی بھی قرینہ موجود نہیں ہے جس کی بنا پر اس کو مذکر اور مونث کے ساتھ خاص کیا جائے۔ جہاں تک قرآن کی قدیم تفسیروں کا تعلق ہے۔ اس سلسلہ میں عام طور پر دو باتیں کہی جاتی رہی ہیں۔ یہاں ہم صرف ایک تفسیر کا حوالہ نقل کرتے ہیں۔ (ويعلم ما فی الارحام) اس من ذکر او انثی خدا ہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے ، یعنی مذکر شقی او سعید ۔ صفوة التفاسير، محمد علی الصابونی یا مونث ، یا برا یا بھلا ۔ اس آیت میں مذکر اور مونث کا قصہ زیادہ تر عوامی ذوق کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ عوام کو بچوں کے اس سے بہت زیادہ دل چسپی ہوتی ہے کہ ان کے یہاں پیدا ہونیوالی اولاد لڑکا ہے یا لڑکی ، اس لیے یہ تفسیر مشہور ہو گئی۔ ورنہ خود قدیم تفاسیر میں شقی اور سعید کے الفاظ بھی موجود ہیں۔ یعنی یہ خدا ہی کو معلوم ہے کہ پیدا ہونے والا بڑا ہو کر برا نکلے گا یا بھلا ثابت ہوگا۔ برا اور بھلا" کے الفاظ انتہائی عام اور وسیع ہیں ان میں انسان کی زندگی سے متعلق ہر بات موجود ہے۔ انسان زیادہ عمر کو پہنچ کر جو کچھ بنتا ہے وہ سب ان دو لفظوں میں شامل ہے۔ مذکر اور مونث کے بارے میں پہلے بھی انسان اندازے کرتا تھا اور موجودہ زمانہ میں مزید اصناف کے ساتھ اس کا اندازہ کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ تاہم اصل بات بدستور انسان کے لیے لامعلوم ہے اور وہ یہ کہ مکمل معنوں میں پیدا ہونے والے کے بارے میں پیشین گوئی کی جائے کہ وہ کیسا عورت یا مرد ثابت ہوگا اور کیسا عورت یا مرد ثابت نہیں ہوگا۔ رحم مادر کا یہ راز اب بھی انسان کے لیے لامعلوم ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader