صفت مومن
Urdu book, p. 316
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، یہ لو گ گوشت کا یہ ٹکڑا دل ہے۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱/ ۱۵۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں تمثیل کی زبان میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کی اصلاح کا حقیقی طریقہ کیا ہے ۔ وہ یہ کہ جس طرح جسمانی اعتبار سے آدمی اس وقت صحت مند ہوتا ہے جب کہ اس کا دل ٹھیک کام کر رہا ہو۔ اسی طرح کسی انسان کی دینی اور اخلاقی اور روحانی اصلاح اس وقت ہوتی ہے جب کہ اس کا فکر درست ہو، اس کا شعور صحیح طور پر کام کرنے لگے۔ تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں ۔ اصلاحی اور انقلابی۔ اصلاحی تحریک فرد کی تبدیلی کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔ اس کے مقابلے میں جن تحریکوں کو انقلابی تحریک کہا جاتا ہے ، ان کا نشانہ سسٹم (اجتماعی نظام) کو بدلنا ہوتا ہے۔ اصلاحی تحریک کے مطابق، افراد کے سدھار سے اجتماعی زندگی میں سدھار آتا ہے۔ اس کے برعکس انقلابی تحریکوں کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ نظام پر قابض لوگوں کو ہٹا کر اس کے اوپر اپنا کنٹرول حاصل کیا جائے تا کہ لوگوں کو بدلا جاسکے۔ موجودہ زمانہ میں تبلیغی تحریک بنی بر قلب تحریک ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسری اکثر تحریکیں بنی بر نظام کے اصول پر قائم ہیں۔ بنی بر نظام تحریکوں کا اصول فطرت کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تحریکوں کا آخری نتیجہ صرف یہ نکلتا ہے کہ وہ آندھی اور طوفان کی طرح اٹھیں اور پھر کسی مثبت نتیجہ کے بغیر ختم ہو جائیں۔ اس دنیا میں کوئی نتیجہ صرف کسی تحریک ہی سے نکل سکتا ہے جو مبنی بر قلب کے اصول پر اٹھائی گئی ہو، جو ایک ایک انسان کو اپنا نشانہ بنائے، جو ایک ایک انسان کے اندر فکر و شعور کی روشنی پیدا کرے، جو ایک ایک انسان کے اندر یہ جذبہ ابھارے کہ اس کو خدا پرست انسان بن کر دنیا میں زندگی گزارنا ہے۔ اسلامی تحریک وہی ہے جو اسلامائزیشن آف مین کے فطری اصول پر جاری کی جائے ۔ اسلامائزیشن آف اسٹیٹ کے نام پر چلائی جانے والی تحریک غیر فطری بھی ہے اور غیر اسلامی بھی۔ اس کا نتیجہ مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader