Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

یہ بے خبر لوگ

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

فاد في الارض فلولا كان من القرون من قبلكم اولوا . پس کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے کی قوموں میں بقية ينهون عن الفساد في الارض إلا ایسے اہل بقیہ ہوتے جو لوگوں کو زمین میں فساد قليلا ممن أجينا منهم واتبع الذين کرنے سے روکتے۔ ایسے تھوڑے ہی لوگ نکلے جن ظلمو اما أترفو ا فيه وكانو ا مجرمين کو ہم نے ان میں سے بچا لیا۔ اور ظالم لوگ تو اسی وما كان ربك ليهلك القرى بظلم آسودگی میں پڑے رہے جو انھیں ملا تھا اور وہ مجرم واهلها مصلحون (هود :۱۶-۱۱۶) ۔ اور تیرا رب ایسا نہیں کہ وہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ اس کے باشندے مصلح ہوں۔ یہاں پچھلی قوموں سے مراد، پچھلی مسلم امتیں ہیں۔ پچھلی مسلم امتوں کا حال بتا کر موجودہ مسلم امت کو متنبہ کیا گیا کہ تم کو ان کی جیسی غلط روش سے بچنا ہے۔ ورنہ تمہارا بھی وہی انجام ہوگا ، جو ان کا انجام ہوا۔ خدا کی دنیا میں سب کے لئے ایک ہی قانون ہے ، یہاں ایک کو دوسرے پر کوئی امتیازی خصوصیت حاصل نہیں۔ بقیہ کا لفظ عربی زبان میں بہتر بقیہ کے لئے آتا ہے۔ فلان ذو بقية يا فلان بقية قومه کا مطلب ہے، وہ اپنی قوم کے اخیار میں سے ہے۔ لسان العرب کے مطابق ، اولوالبقیہ کے معنی ہیں، اصحاب تمیز یا اصحاب فہم (جلد ۱۴، صفحہ ۸۱ ) ابن جریر الطبری اپنی تفسیر میں اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : (أولوالبقية) يقول : ذو بقية من الفهم والعقل اولوالبقیہ یعنی فہم اور عقل رکھنے والے جو اللہ کے مواعظ يعتبرون مواعظ الله ويتها برون حججه سے نصیحت لیں اور اس کے دلائل پر غور کریں۔ تاکہ وہ فيعرفون محلهم في الايمان بالله وعليهم جانیں کہ ایمان باللہ کی انھیں کیا جزا ملے گی اور اللہ في الكفر به (۱۲ / ۱۳۸) کے انکار پر ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ قرآن کے مترجمین نے اولوالبقیہ کا جو ترجمہ کیا ہے، اس میں سے چند یہ ہے ــــ شاہ ولی اللہ دہلوی : اہل خرد۔ شاہ عبد القادر دہلوی، صاحب شعور۔ مولانا اشرف علی تھانوی : سمجھدار۔ اس آیت میں اولوالبقیہ کا صحیح ترجمہ یہی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page