Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

سوال و جواب

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال و جواب سوال: قرآن میں ہے کہ " اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔" یہ آیت مجھے بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ بظاہر اس میں ہلاکت اور خطرہ والے راستہ سے بچ کر چلنے کی تعلیم ہے۔ مگر اسی کا نام تو ہلاکت ہے کہ آدمی خطرات کے راستہ پر چلنے سے ڈرے اور رسک نہ لینا چاہے۔ فرد کا معاملہ مہیا قوم کا، تمام بڑی بڑی ترقیاں انہیں کو ملتی ہیں جو اپنے آپ کو جان جوکھوں میں ڈال کر اقدام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ جس قوم کا نظریہ یہ ہو کہ " خطرات سے بچ کر چلو " وہ قوم کبھی اونچی کامیابیاں حاصل نہیں کر سکتی۔ جواب: زندگی کی حقیقت جو آپ نے بیان کی، وہ صد فی صد صحیح ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ رسک کے بغیر کوئی کامیابی نہیں ہوتی۔ مگر آیت کا جو مطلب آپ نے لیا، اصل مطلب اس کے بالکل برعکس ہے۔ پوری آیت یہ ہے : وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا بقره 195 ڈالو (کہ خرچ کرنے سے رک جاؤ) اور کام کو اچھی طرح کرو دین کی ضرورتوں میں اپنے جان و مال کو خرچ کرنا، اپنی ذاتی ضرورتوں میں کمی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اور کہا گیا کہ خواہ اپنی ذات کے لئے ہی کرنا پڑے، مگر دین کے لئے جدوجہد کو بہر حال جاری رکھو۔ کیوں کہ اجتماعی زندگی برباد ہو جائے تو فرد بھی اپنے آپ کو بربادی سے بچا نہیں سکتا۔ اسی لئے ان راہوں میں خرچ کرتے رہو جن سے اجتماعی زندگی طاقت ور ہوتی ہے اس آیت کے سلسلہ میں حضرت حذیفہ اور حضرت ابو ایوب انصاری کی روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے جو اس کے مفہوم کو پوری طرح واضح کر دیتی ہے۔ ان کے نزدیک ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب ہے اپنے مال اور اپنے گھر میں بیٹھ رہنا اور جہاد کو چھوڑ دینا (التہلکة الاقامة في الاهل والمال ودتوں الجهاد بخاری نے حضرت حذیفہ سے اس آیت کی مختصر شانِ نزول نقل کی ہے۔ اس کی صراحت حضرت ابو ایوب انصاری کی حدیث میں ہے جس کو ابو داؤد، ترمذی، حاکم، نسائی، ابن حبان وغیرہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے شرطِ شیخین پر اس کو صحیح کہا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہیں کہ ہم انصار لوگ جب کچھ لڑائیاں آنحضرت کی ہمراہی میں لڑ چکے تو ایک دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا کہ اب تو رسول اللہ کے ساتھ بہت اہل اسلام جمع ہو گئے ہیں، اگر ہم چند لوگ لڑائیوں میں آپ کے ساتھ نہ جائیں تو اپنی اقتصادیات کو درست کر سکتے ہیں اور مدتوں باہر رہنے سے جو گھر بار اجڑ گئے ہیں ان کی تلافی کی جا سکتی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ اور آگاہ کیا کہ اس طرح کے اخراجات سے ہاتھ روکنا ہلاکت کا باعث ہے، اپنے آپ کو اس ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اور دین کے لئے جان و مال خرچ کرنے میں لگے رہو۔ یہ آیت خطرات اور اندیشوں کے علی الرغم حق کی راہ میں اقدام کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ نہ یہ کہ آدمی خطرات اور اندیشوں سے گھبرا کر ایسا اقدام کرنے سے رک جائے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page