معرفت قرآن
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (البقرہ) اس آیت کے مطابق ، کسی گردہ کے لیے حامل کتاب ہونے کے دو درجے ہیں ، ایک یہ کہ وہ ” انسان “ کے طور پر اس کا حامل بنے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ ” حیوان “ کے طور پر اس کا حامل بنا ہو۔ ایک حقیقی انسان جب کتابِ خداوندی کا حامل ہو تو اس کا پورا وجود اس کتاب کا حامل بن جاتا ہے۔ اس کی شخصیت کا ہر جزو اس میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لیے حرکت میں آجاتا ہے۔ ایک طرف اس کا جسمانی ہاتھ اس کتاب کو اٹھائے ہوئے ہوتا ہے ، دوسری طرف اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی سوچ اسی کے رخ پر چلتی ہے۔ اس کے تمام ذہنی نقشے اسی کی تعلیمات کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔ اس کا شعور پوری طرح اس کے فکری سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ اس کی محبتوں کا مرجع وہی ہوتا ہے جو اس کتاب میں بتایا گیا ہے، اس کے خوف اور اندیشیوں کی بنیاد اسی کتاب کی تعلیمات ہوتی ہیں۔ وہ وہی چاہتا ہے جو اس کتاب کے مطابق چاہنا چاہیے اور ان چیزوں کو چاہنے سے رک جاتا ہے جن کی بابت اس کتاب میں منع کر دیا گیا ہے۔ دوسرا درجہ حیوان کی سطح پر حامل کتاب بننے کا ہے۔ ایسے لوگوں کا ” جسم “ تو کتاب الہی کو اٹھائے ہوئے ہوتا ہے مگر ان کی ” روح “ کتاب الہی کی حامل نہیں ہوتی۔ ظاہری طور پر وہ اپنے ہاتھ میں خدا کی کتاب کو تھامے ہوئے ہوتے ہیں مگر ان کا دل اور دماغ اس روشنی اور حرارت سے خالی ہوتا ہے جو اس کتاب کو اپنانے کے نتیجہ میں کسی کے اندر پائی جانی چاہیے۔ وحی الہی کا حامل صرف وہ ہے جو روح کی سطح پر دحی کا حامل ہو۔ جو لوگ جسم کی سطح پر اس کے حامل ہوں ان کی مثال اس حیوان کی سی ہے جس کی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہو مگر اس کا باطن اس کی نورانیت سے خالی ہو۔ کتابِ خداوندی کے حامل صرف وہ لوگ ہیں جو انسان کی حیثیت سے اس کتاب کے حامل بنیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader