جنت کی قیمت
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کی قیمت دنیا میں آدمی سطلیت کی قیمت پاتا ہے، آخرت میں آدمی معنویت کی قیمت پائے گا ــــــــــ یہی ایک لفظ میں دنیا اور آخرت کے معاملہ کا خلاصہ ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : اور ان چیزوں کی طرف بالکل نہ دیکھو جن کو ہم نے کچھ گروہوں کو ان کی آزمائش کے لیے انہیں دے رکھا ہے۔ اور تمہارے رب کا رزق زیادہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے (ولا تمدن عينيك الى ما متعنا به ازواجاً منهم زهرة الحياة الدنيا لنفتنهم فيه و رزق ربك خير وابقى)، طٰه ۱۳۱ ایک شخص جس کو دنیا کی رونقیں ملی ہوئی ہوں، بظاہر وہ لوگوں کو مقابل رشک دکھائی دیتا ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ قابلِ رحم ہے۔ کیوں کہ اس کے گرد رونقوں کی فراہمی یہ بتاتی ہے کہ وہ خدا کی آزمائش میں ناکام ہو گیا۔ موجودہ دنیا میں آدمی ہر آن دو چیزوں کے درمیان ہے۔ اس کے ایک طرف معنوی حققتیں ہیں۔ اور دوسری طرف ظاہری رونقوں والی چیزیں ۔ جو آدمی معنوی حقیقتوں پر دھیان دے ، وہ ظاہری رونقوں کی رعایت نہیں کر پاتا ، اس لیے وہ ان کو حاصل کرنے سے محروم رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص ظاہری رونقوں والی چیزوں میں دل چسپی لے ، وہ ان کی خوب رعایت کرتا ہے۔ اس لیے وہ ان کو پانے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔ مگر یہ پانا ایک محرومی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اس نے ' زہرۂ دنیا ' کو پایا ، مگر وہ ' رزق رب ' کی زیادہ قیمتی چیز کو نہ پا سکا۔ جنت کو پانا آسان ہے۔ مگر جنت کسی آدمی کو ایک مہنگی قیمت پر ملتی ہے۔ اور وہ ہے ــــــــــ ظاہر کے کھونے کو برداشت کرنا، اور معانی کو پا کر اس پر راضی رہنا۔ ظواہر میں محنت کا فائدہ نقد ملتا ہے، اور معانی میں محنت کا فائدہ ادھار رہتا ہے۔ ظواہر میں محنت کرنے والوں کو دولت، پلیٹ، عہدہ، عزت، ہر چیز فوراً حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس معانی میں محنت کرنے والے کو جو کچھ ملے گا آخرت میں ملے گا۔ ظواہر سے محرومی پر راضی ہونا گویا نا قابلِ برداشت کو برداشت کرنا ہے۔ یہی جنت کی قیمت ہے۔ جو لوگ اس نا قابل برداشت کو برداشت نہ کریں وہ جنت میں داخلہ کی خوشی بھی نہیں پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader