دنیا کا جوڑا
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
من دونِ اللہ فیسبّوا اللہ عدواً بغیر علم ، الانعام ۱۰۹ ایک طرف اس قرآنی حکم کو سامنے رکھیے ۔ دوسری طرف یہ دیکھیے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں جب اسلام کی دعوت پیش کی تو وہاں کے سرداروں نے آپ پر یہ الزام لگایا کہ وہ ہمارے آبا کو گالی دیتے ہیں اور ہمارے معبودوں کو گالی دیتے ہیں ۔۔۔۔ شتم اباءنا و سب الھتنا سیرۃ ابن ہشام ۱/ ۳۱۰ کیا قرآن کے اس حکم کے باوجود، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم قریش کے اکابر کو اور ان کے بتوں کو گالی دیتے تھے ۔ ہرگز نہیں۔ حدیث اور سیرت کے پورے ذخیرہ میں ایسا کوئی کلام آپ کی زبان سے منقول نہیں۔ اصل یہ ہے کہ آپ گالی نہیں دیتے تھے۔ البتہ آپ کی بات کو وہ گالی بتلاتے تھے تاکہ آپ کو سب و شتم اور دشمنام طرازی کا ذمہ دار ٹھہر اکری آپ کو مطعون کریں ۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرماتے تھے وہ ابطالِ باطل تھا نہ کہ سب وشتم ۔ آپ ان کے جاہلانہ مذہب یا ان کے اکابر کے خلاف دشمنام طرازی نہیں کرتے تھے ، بلکہ واضح دلائل سے ان کی تردید کرتے تھے ۔ آپ اثباتِ حق اور ابطالِ باطل والا کام انجام دیتے تھے ۔ قریش چونکہ آپ کی دلیلوں کے مقابلہ میں کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے تھے ، اس لیے انھوں نے آپ کے بارے میں کہہ دیا کہ آپ سب وشتم کرتے ہیں ۔ جب آدمی کے غلط نظریہ کو طاقت ور دلائل سے رد کر دیا جائے ، اس کے باوجود وہ اپنے غلط نظریہ کو چھوڑنا نہ چاہیے تو وہ دامی اور مصلح کے اوپر سب وشتم کا الزام لگا دیتا ہے۔ اس طرح وہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے جو دلیل دی ہے وہ کوئی دلیل نہیں ، وہ تو صرف دشمنام طرازی کی ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader