Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

عقل کا امتحان

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

عقل کا امتحان قرآن میں بتایا گیا ہے کہ فرعون کے دربار میں ایک صاحب (رجل مومن) تھے جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے ہوئے تھے مگر انہوں نے اپنے ایمان کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ آخر ایک موقع پر جب فرعون نے کہا کہ اس کا ارادہ ہے کہ وہ موسیٰ کو قتل کر دے، اس وقت وہ خاموش نہ رہ سکے۔ انہوں نے فرعون اور تمام اہل دربار کے سامنے حضرت موسیٰ کی حمایت میں تقریر کی۔ یہ تقریر قرآن کی سورہ نمبر ۴۰ میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ قرآن میں اس رجل مومن کی تقریر کو نقل کرتے ہوئے ایک مقام پر یہ الفاظ ہیں : وقال الذى آمن يا قوم اتبعون اهدكم سبيل الرشاد (اور جو شخص ایمان لایا تھا اس نے کہا کہ اے میری قوم، تم لوگ میری پیروی کرو، میں تمہاری رہنمائی سیدھے راستہ کی طرف کر رہا ہوں) المؤمن ۳۸ دوسری طرف قرآن میں فرعون کی تقریر کے ذیل میں بھی یہ الفاظ آئے ہیں : قال فرعون ما أريكم إلا ما أرى وما أهديكم إلا سبيل الرشاد (فرعون نے کہا کہ میں تم کو اپنی سوچی سمجھی رائے بتا رہا ہوں اور میں تمہاری رہنمائی ٹھیک سیدھے راستہ کی طرف کر رہا ہوں) المؤمن ۲۹ فرعون کی حیثیت رجل کا فر کی تھی مگر اس نے بھی وہی بات کہی جو رجل مومن نے کہی۔ دونوں نے کہا کہ میں تم کو سبیل الرشاد (راہ راست) کی طرف رہنمائی کر رہا ہوں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں حق کا مبلغ جو الفاظ بولتا ہے وہی الفاظ باطل کے مبلغ بھی بولتے ہیں ۔ دونوں صداقت کے حوالے سے اپنی بات پیش کرتے ہیں۔ حق کا مبلغ اگر دلائل حق کے حوالے سے اپنی بات کہتا ہے تو باطل کے مبلغ بھی بظاہر دلائل حق ہی کے نام پر لوگوں کو اپنی طرف بلاتے ہیں۔ مگر ایک کی دلیل حقیقی دلیل ہے اور دوسرے کی دلیل بناوٹی دلیل۔ یہاں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ دونوں کے درمیان تمیز کرے۔ وہ شورش اور حقیقت کے فرق کو سمجھے۔ وہ مغالطہ اور دلیل کو الگ کر کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page